کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسمی ٰ محمد یوسف کی بیٹی کا نکاح گل نواز کے ساتھ ہوا ، لیکن ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ اس دوران مسمیٰ محمد یوسف اور اس کے داماد کے درمیان تکرار ہوا جس پر مسمیٰ محمد یوسف نے اپنے داماد سے کہا " اگر میں نے تم کو اپنی بیٹی دی تو مجھ پر میری بیوی تین شرط کے ساتھ طلاق ہوگی " معلوم یہ کرنا ہے کہ اگر ان کے درمیان رخصتی ہوجائے تو محمد یوسف کی بیوی پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟ اگر ہوگی تو اس سے بچنے کی کوئی صورت ہوسکتی ہے ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرنے کی صورت میں اس شرط کے پائے جانے پر طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل (مسمیٰ محمد یوسف) نے اپنے داماد سے مذکورہ الفاظ "اگر میں نے تم کو اپنی بیٹی دی تو مجھ پر میری بیوی کو تین طلاق ہوں گی" کہے، تو اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں معلق ہوچکی ہیں۔چنانچہ اگر سائل (مسمیٰ محمد یوسف) اپنی بیٹی کی رخصتی کردے گا تو اس کی بیوی پر معلق تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوجائے گی، جس کے بعد بغیر حلالۂ شرعیہ کے دونوں کا میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا درست نہ ہوگا۔
البتہ اگر سائل اپنی بیٹی کی رخصتی مذکور شخص کے ساتھ کرنا چاہتا ہو تو ایسی صورت میں معلق طلاقوں سے بچنے کے لیے یہ تدبیر اختیار کی جاسکتی ہے کہ سائل اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن دے کر اپنی زوجیت سے الگ کردے۔ پھر جب اس کی عدت ختم ہوجائے تو سائل اپنی بیٹی کی رخصتی کردے۔ اس وقت چونکہ بیوی اس کے نکاح میں نہ ہوگی، اس لیے اس پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی اور مذکور شرط بھی پوری ہوجائے گی۔اس کے بعد باہمی رضامندی سے، شرعی گواہان کی موجودگی میں، نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرلیا جائے۔ تاہم تجدید نکاح کے بعد آئندہ کے لیے سائل کو صرف دو (2) طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، اس لیے اس کے بعد طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط سے کام لیں ۔
کما فی فتاوی الھندیۃ :وزوال الملك بعد اليمين بأن طلقها واحدة أو ثنتين لا يبطلها فإن وجد الشرط في الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق فدخلت وهي امرأته وقع الطلاق ولم تبق اليمين (ج1 ص 416)
وفی الدر المختار:(وفيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما ۔۔۔ (ج3 ص 352 مطلب فی الفاظ الشرط ط:دار الفكر-بيروت)
وفیہ ایضاً: فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها (ج3 ص 355)