حرام طریقہ علاج و ادویات

کیا اونٹنی کا پیشاب پینے والی حدیث مطلق ہے ؟

فتوی نمبر :
94945
| تاریخ :
2026-05-05
حظر و اباحت / حلال و حرام / حرام طریقہ علاج و ادویات

کیا اونٹنی کا پیشاب پینے والی حدیث مطلق ہے ؟

اونٹنی کا پیشاب پینا کیسا ہے ایک حدیث کے مطابق حضور نے دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا بیماری کی حالت میں رہنمائی فرمائیں

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ اونٹنی کا پیشاب بھی باقی جانوروں کے پیشاب ہی کی طرح ناپاک اور نجس ہے، احادیث مبارکہ میں مطلقا پیشاب سے احتیاط نہ کرنے پر عذاب قبر کی وعید وارد ہوئی ہے، چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے: استنزهوا من البول؛ فإن عامة عذاب القبر منه .( ترجمہ: پیشاب سے بچو (احتیاط کرو)، اس لیے کہ اکثر عذاب قبر پیشاب (سے نہ بچنے )کی وجہ سے ہے) جبکہ جس حدیث مبارکہ میں آپ صلي اللہ علیہ وسلم نے ایک مخصوص جماعت کو اونٹنی کے پیشاب پینے کا حکم دیا تھا اس کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں:
۱: یہ کہ آپ صلي اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ اللہ تعالي نے مطلع کیا تھا کہ ان کی دواء اور شفاء صرف اور صرف اونٹنی کے پیشاب میں ہی ہے، اور ایسی صورتحال کو شریعت کی اصطلاح میں اضطرار سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور اضطرار کی حالت میں بقدر ضرورت حرام چیز کے استعمال کی اجازت ہوتی ہے۔
۲: يه كه آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعہ سے معلوم ہوگیا تھا کہ یہ لوگ حقیقت میں مسلمان نہیں ہیں ، چنانچہ یہ حکم فقظ ان مخصوص لوگوں کے ساتھ خاص تھا۔ لہذا اونٹنی کا پیشاب پینا جائز نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

في عمدة القاري بشرح صحيح الإمام البخاري: وقال أبو حنيفة والشافعي وأبو يوسف وأبو ثور وآخرون كثيرون الأبوال كلها نجسة إلا ما عفي عنه وأجابوا عنه بأن ما في حديث العرنيين قد كان للضرورة فليس فيه دليل على أنه يباح في غير حال الضرورة لأن ثمة أشياء أبيحت في الضرورات ولم تبح في غيرها كما في لبس الحرير فإنه حرام على الرجال وقد ابيح لبسه في الحرب أو للحكة أو لشدة البرد إذا لم يجد غيره وله أمثال كثيرة في الشرع والجواب المقنع في ذلك أنه عليه الصلاة والسلام عرف بطريق الوحي شفاهم والاستشفاء بالحرام جائز عند التيقن (ٳلی قوله)لأنهم كانوا كفارا في علم الله تعالى ورسوله عليه السلام علم من طريق الوحي أنهم يموتون على الردة ولايبعد أن يكون شفاء الكافر بالنجس اه (5/93)
في مرقاة المفاتيح بشرح مشكاة المصابيح: واستدل أصحاب مالك وأحمد بهذا الحديث أن بول ما يؤكل وروثه طاهران وأجاب أصحابنا وغيرهم من القائلين بنجاستهما بأن شربهم الأبوال كان للتداوي وهو جائز بكل النجاسات سوى المسكرات اه (11/121)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدابراہیم خلیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94945کی تصدیق کریں
0     14
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • Centrum and Omega 3 - سینٹرم اور اومیگا کیپسول استعمال کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • مصنوعی بال لگوانے اور ان پر مسح کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا حکم

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 1
  • پینٹ فولڈ کرکے نماز پڑھنے کا حکم -خاندانی منصوبہ بندی کے جائز و ناجائز طریقے

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • اولاد ہونے کیلئے علاج کروانے کا حکم

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • شادی سے قبل اپنی مرادنگی چیک کرنے کے لئے کسی غیر عورت سے ہمبستری کرنا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • نزلے کے اخراج کے لیے شراب استعمال کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • مردوں اور عورتوں کے لیے خضاب، اور الکحل والی پرفیوم استعمال کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • مانع حمل گولیاں استعمال کرنا

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • موجودہ دور میں تیار ہونے والی ویکسین کا حکم

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • قادیانی کمپنی کی دوائی استعمال کرنا

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • گائے اور بھینس کے جیلاٹین سے بنے کیپسول کھانا

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 1
  • حصولِ اولاد کے لئے "سروکیسی"کے طریقۂ کار کو اختیار کرنا

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • کرونا ویکسین کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   انگلش   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • جوڑوں کے درد کے لئے سانپ کی چربی سے دوا تیار کرنا -اور اس کو لگا کر نماز پڑھنے کاحکم

    یونیکوڈ   انگلش   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
  • کیا اونٹنی کا پیشاب پینے والی حدیث مطلق ہے ؟

    یونیکوڈ   حرام طریقہ علاج و ادویات 0
Related Topics متعلقه موضوعات