اسلام علیکم!
مسئلہ یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو کہا تھا کہ( اگر تو اپنی خالہ کے گھر گئی تو تجھے ڈائریکٹ 3 طلاق) جبکہ طلاق سے آگے (ہے، ہو جائے گی،دیتا ہوں،دے دو ں گا وغیرہ)میں سے کوئی ایک بھی لفظ استعمال نہیں کیا یہ الفاظ نہیں کہے جس سے یہ جملہ نا مکمل ہے
تو اس سے طلاق ہو جائے گی کیا؟
تو میری بیوی اپنی خالہ کے گھر گئی ہے
جبکہ میں ایک فتویٰ کا لنک آپکے ساتھ شیئر کر رہا ہوں جس میں یہ ہے کہ نا مکمل جملے سے طلاق نہیں ہوتی۔
مہربانی پوری راہنمائی فرمائے
نیچے فتویٰ کا لنک ہے
https://www.darulifta.info/d/banuritown/fatwa/4fh
واضح ہو کہ ناقص اور نامکمل جملہ وہ ہوتا ہے جس سے کسی حکم کا واقع ہونا یا نہ ہونا سمجھ میں نا آئے، بلکہ حکم کو ثابت کرنے کے لیے اس جملہ میں مزید الفاظ کے اضافے کی ضرورت ہو، جبکہ صورت مسئولہ میں سائل کا مذکور جملہ’’اگر تو اپنی خالہ کے گھر گئی تو تجھے ڈائریکٹ تین طلاق‘‘ نامکمل جملہ نہیں ہے،بلکہ یہ ایک مکمل جملہ ہے ، جس سے خالہ کے گھر جانے پر تین طلاقوں کے وقوع کا حکم واضح طور پر سمجھ میں آتا ہے، اور عرف میں ایسے جملوں کا استعمال عام ہے، لہذا سائل نے جب اپنی بیوی کو سوال میں مذکور جملہ ’’اگر تو اپنی خالہ کے گھر گئی تو تجھے ڈائریکٹ تین طلاق ‘‘ کہہ دیا تو اس سے تعلیق طلاق منعقد ہوگئی تھی، اس کے بعد جب سائل کی بیوی اپنی خالہ کے گھر گئی تو شرط پائے جانے کی وجہ سے اس پر معلق تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ سائل کی بیوی عدت گزارنے کے بعد اگر کسی دوسری جگہ نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔
فی الدر المختار مع رد المحتار: باب التعليق (هو) لغة من علقه تعليقا قاموس: جعله معلقا. واصطلاحا (ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة أخرى) ويسمى يمينا مجازا (إلى قوله) (شرطه الملك) حقيقة كقوله لقنه: إن فعلت كذا فأنت حر أو حكما، ولو حكما (كقوله لمنكوحته) أو معتدته (إن ذهبت فأنت طالق) اه (3/344باب التعليق)