کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیوی کے سامنے نشے کی حالت میں پشتو زبان میں یہ الفاظ کہے" زما زڑہ غواڑی تالہ می طلاق درکڑے " جس کا اردو ترجمہ ہے کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں آپ کو طلاق دے دوں، یہ جملہ صرف ایک بار نشے کی حالت میں کہا ہے تو کیا اس سے طلاق واقع ہوجائے گی؟ براہ کرم اس مسئلے کی قرآن وسنت سے رہنمائی فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کاپابندہوتاہے،سوال کے سچ یاجھوٹ کی ذمہ داری سوال کرنے والے پرعائدہوتی ہے ، اس مختصر تمہیدکے بعد واضح ہو کہ طلاق کے واقع ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ماضی یا حال کے الفاظ استعمال کیے جائیں ،مستقبل کے الفاظ یا صرف طلاق کاارادہ ظاہر کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کابیان اگر مبنی بر حقیقت ہو تومذکور الفاظ" زما زڑہ غواڑی تالہ می طلاق درکڑے" میں چونکہ انشاءِ طلاق نہیں، بلکہ مستقبل میں طلاق دینے کے ارادے کااظہارہے اس لئے مذکور الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، دونوں ساتھ رہ سکتے ہیں، تاہم سائل کوآئندہ اس قسم کے الفاظ اداکرنے سے بھی احتراز چاہئیے ۔
کما فی الدر المختار : هو) لغة رفع القيد لكن جعلوه في المرأة طلاقا وفي غيرها إطلاقا، فلذا كان أنت مطلقة بالسكون كناية وشرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق،(کتاب الطلاق، ج: ٣، ص: ٢٢٧، مط: سعيد)
وفي فتح القدير: ولا يقع بأطلقك إلا إذا غلب في الحال، ولو قالت أنا طالق فقال: نعم طلقت. ولو قاله في جواب طلقني لا تطلق وإن نوى. ولو قيل له: ألستَ طلقتَها فقال: بلى طلقت أو نعم لا تطلق.(کتاب الطلاق، باب ایقاع الطلاق، ج: ٣، ص: ٣٥٤، مط: رشيدية)
وفي العقود الدرية: صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام(کتاب الطلاق،ج: ١، ص: ٣٨، مط: حقانية)
وفي الدرالمختار: بخلاف قوله طلقي نفسك فقالت أنا طالق أو أنا أطلق نفسي لم يقع لأنه وعد جوهرة،ما لم يتعارف أو تنو الإنشاء فتح(کتاب الطلاق، باب تفویض الطلاق، ج: ٣، ص: ٣٢٠، مط: سعيد)