میں نے ابھی تک نکاح نہیں کیا۔ ایک وقت میرے دل میں طلاق کے الفاظ کا خیال آیا، پھر میں نے یہ الفاظ زبان سے بھی کہہ دیے: "تمہیں طلاق نکاح کے بعد"، لیکن یہ میں نے صرف اپنے آپ سے سوچ اور سوال کے طور پر کہا تھا کہ کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں؟ نہ میرے ذہن میں کوئی عورت تھی اور نہ ہی میرا طلاق دینے کا ارادہ تھا۔ اب میں وسوسے میں ہوں کہ آیا اس سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ دوسرا یہ کہ بعد میں ایک وقت میں نے آدھی بات بھی کہی، جیسے: "تمہیں طلاق" یا "طلاق نکاح"، لیکن میں نے مکمل جملہ نہیں کہا۔ مہربانی فرما کر وضاحت فرمائیں: کیا اس صورت میں کوئی طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ ایسے الفاظ کا کیا حکم ہے جو صرف خیال یا وسوسے کی وجہ سے کہے جائیں؟
واضح ہو کہ نکاح سے قبل صرف اس صورت میں طلاق واقع ہوتی ہے جب طلاق کی نسبت اور اضافت نکاح کی طرف کی جائے، چنانچہ اگر نکاح سے قبل کوئی شخص الفاظ طلاق کہہ دیتا ہے تو ایسے الفاظ کا شرعا اعتبار نہیں کیا جاتا، اور نہ ہی اس کی وجہ سے نکاح کرنے کے بعد بیوی پر طلاق واقع ہوگی۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائل کا مذکور جملہ ’’تمہیں طلاق نکاح کے بعد‘‘ شرعا مہمل اور لغو و بے معنی شمار ہوگا، اور نکاح کرنے کے بعد ان الفاظ کی وجہ سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
في المستدرك على الصحيحين للحاكم مع تعليقات الذهبي: - عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا طلاق قبل النكاح.
و في حديث هشيم : لا نذر لابن آدم فيما لا يملك و لا طلاق فيما لا يملك و لا عتاق فيما لا يملك، تعليق الذهبي في التلخيص : صحيح(3/9كتاب الطلاق)
و في عمدة القاري بشرح صحيح الإمام البخاري: هذا بمسألة التعليق وهي ما إذا قال رجل لأجنبية إذا تزوجتك فأنت طالق فإذا تزوجها يقع الطلاق عند الحنفية (إلى قوله) والطلاق قبل النكاح فيما إذا قال لأجنبيه أنت طالق فهذا كلام لغو وفي مثل هذا يقال لا طلاق قبل النكاح اه (30/97)