السلام عليكم
میری شادی 16 دسمبر 2024 کو ہوئی، جو میرے ایک دوست نے اپنی بھانجی سے کروائی۔ شادی کے دن ہی سے اس کا رویہ غیر معمولی تھا۔ جو بھی سوال کیا جاتا، وہ الٹا جواب دیتی، یا غیر معقول بات کرتی۔ اس کی پیدائش 1997 کی تھی، لیکن وہ خود کو 1971 کی بتاتی تھی۔ کبھی کہتی کہ اس کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ، گلا کٹا ہوا ہے ، ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہے وغیرہ، حالانکہ اس کے جسم پر ایسا کوئی نشان نظر نہیں آتا تھا۔اس کی والدہ بھی باتوں میں حقائق چھپارہی تھیں۔ جب معاملہ زیادہ بڑھا تو میں ان کے پاس گیا اور پوچھا کہ اصل مسئلہ کیا ہے ؟ اس پر انہوں نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ “ بیٹا، ہماری بیٹی بالکل ٹھیک تھی ، لیکن منگنی کے دنوں میں کسی نے اس پر جادو کر دیا، اسی لیے اسے تعویذ پہنا یا ہوا ہے اور دم والا پانی پلایا جا رہا ہے۔ آپ کا ساتھ چاہئے کیونکہ آپ کی طرف والے اور ہماری طرف والے اس شادی کے حق میں نہیں ہیں۔پھر میں نے پوچھا کہ اسے دماغی دوا کیوں دی جارہی ہے؟ تو کہا گیا کہ اب نہیں دیں گے، لیکن وہ چھپ کر دیتے رہے۔ جب میں نے زیادہ منع کیا تو انہوں نے حکیمی / دیسی دوا شروع کر دی اور کہا کہ یہ صرف پیٹ کی دوا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے جھوٹ بولے گئے، جن کے ثبوت میرے پاس موجود ہیں۔میں نے تقریباً 6 ماہ تک حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ پھر وہ لوگ آئے اور کہا کہ ہم بچی کا علاج کروا کر لاتے ہیں، اور 2 جولائی 2025 کو اسے اپنے ساتھ لے گئے۔اس کے بعد نہ انہوں نے کوئی رابطہ کیا اور نہ ہی مجھے اس سے بات کروائی۔ ہر جگہ سے یہی پیغام ملا کہ انہیں طلاق چاہئیے ، اور میرے بارے میں یہ کہا گیا کہ میں صحیح آدمی نہیں ہوں، کھانا نہیں دیتا و غیرہ، اور مجھ پر مختلف الزامات لگائے گئے۔میں ایک ماہ عمرہ پر گیا، وہاں جا کر خود کو ذہنی طور پر سنبھالا، پھر کچھ عرصہ انتظار کیا۔ جب طلاق کے علاوہ کوئی بات سامنے نہ آئی تو میں نے 26 دسمبر 2025 کو طلاق کے کاغذات بھیج دیے ۔ جو سوال کے سا تھ منسلک ہے ۔ اس کے بعد میں بار بار کہتا رہا کہ آکر اپنا سامان لے جائیں، لیکن انہوں نے 1 اپریل 2026 کو دو بڑی فہرستیں بھیجیں، جن میں نہ صرف وہ تمام سامان شامل تھا جو انہوں نے دیا تھا ،بلکہ وہ تحائف بھی شامل تھے جو انہوں نے مجھے دیے تھے ، اور وہ تمام چیزیں بھی شامل کر دیں جو ہم نے انہیں دى تھىں، خاص طور پر سونا، اس كے علاوه وه طلاق تك كا جيب خرچ بھى مانگ رہے ہىں، اس مىں وه سونا جو ہم نے ان كو ديا تھا، اسے اپنے پاس رکھنے کا حق رکھتے ہیں یا نہیں؟ نیز نکاح نامہ کے شرائط میں اس بارے میں وضاحت دیا ہے، اگر دینے کی بات ہوئی ہے تو کیا وہ سونا بعینہ دینا ہوگا اور اگر وہ موجود نہ ہو تو اس کی کوئی قیمت دینی ہوگی؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ اس معاملے میں شریعت کیا حکم دیتی ہے؟
واضح ہوکہ جو چیزیں مىاں بىوى يا اس كے اہل خانہ اىك دوسرے كو بطور ہبہ (تحفہ) دىدىں تو قبضہ كرلىنے كے بعد وه جانبين كى ملكيت ہوجاتى ہىں؛ لہذا صورت مسئولہ مىں شوہر كى طرف سے بىوى كو سونا (زىورات ) اگر بطور ہديہ دىا گىا تھا، بطور عادت (استعمال كے لئے ) نہىں ديا گيا تھا ، تو قبضہ كرلىنے كے بعد وه بىوى كى ملكىت بن چكا ، لہذا اب طلاق كى صورت مىں شوہر كو اسے واپس لىنے ىا اپنے پاس روكے ركھنے كا شرعاً حق نہىں، بلكہ اگر وه سونا شوہر خرچ كر چكا ہو تو مذكور سونا يا آج كے ريٹ كے مطابق اس كى رقم دينا سائل پر لازم ہے،
اسى طرح بىوى يا اس كے گھر والوں كى طرف سے شوہر كو جو تحائف دیے گئے تھے، تو وه شوہر كى ملكيت بن چكے ، لہذا بىوى يا سسرال والوں كا مطالبہ كرنا شرعاً جائز نہىں، جس سے احتراز لازم ہے، الاّ یہ کہ کوئی چیز عاریت (عارضی استعمال) کے طور پر دی گئی ہو، تو وہ واپس لی جاسکتی ہے۔
جبکہ طلاق کی صورت میں شوہر پر عدت کاخرچہ اس صورت میں لازم ہوتا ہے، جب بیوی شوہرکے گھرمیں عدت گزارے یاشوہرازخوداسے گھرمیں ٹھہرنے کی اجازت نہ دے اورمجبوراًاسے دوسری جگہ عدت گزارنی پڑے ، لیکن اگرعورت اپنی مرضی سے عدت کادورانیہ شوہرکے گھرگزارنے پرآمادہ نہ ہو،تواس صورت میں وہ عدت کے خرچہ کی حقدارنہیں ہوتی .
كما في تفسير مجاهد: عن مجاهد: وإن أردتم استبدال زوج مكان زوج وآتيتم إحداهن قنطارا. [النساء: 20] يقول: " إن أردتم طلاق امرأة ونكاح أخرى فلا يحل لكم من مال المطلقة شيء - وإن كثر - وهو قوله {وآتيتم إحداهن قنطارا فلا تأخذوا منه شيئا} [النساء: 20] " (سورة النساء، ص: 271)
وفي صحيح البخاري: عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: (العائد في هبته كالكلب، يقيء ثم يعود في قيئه).اهـ (كتاب الهبة، باب: هبة الرجل لامرأته والمرأة لزوجها، ج: 2، ص: 915، الرقم: 2449، ط: (دار ابن كثير، دار اليمامة) - دمشق)
وفي الدر المختار: وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة.اهـ (مطلب في الطلاق بالكتابة، ج: 3، ص: 246، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ كما سنحققه (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) ولو قبل الدخول، وما في المشكلات باطل، أو مؤول كما مر (حتى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) يجامع مثله.اهـ (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 409، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: (وتجب) العشرة (إن سماها أو دونها و) يجب (الأكثر منها إن سمى) الأكثر ويتأكد (عند وطء أو خلوة صحت) من الزوج.اهـ (كتاب النكاح، ج: 3، ص: 102، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: بل كل أحد يعلم الجهاز للمرأة إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها.اهـ (باب المهر، ج: 3، ص: 158)
وفيه أيضا: (والنفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا) أي اصطلاحهما على قدر معين أصنافا أو دراهم، فقبل ذلك لا يلزم شيء، وبعده ترجع بما أنفقت ولو من مال نفسها بلا أمر قاض.اهـ (باب النفقة، ج: 3، ص: 594)
وفيه أيضا: (لا) نفقة (إلى قوله) و (خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعود.اهـ (باب النفقة، ج: 3، ص: 575)
وفيه أيضا: (والزاي الزوجية وقت الهبة فلو وهب لامرأة ثم نكحها رجع ولو وهب لامرأته لا) كعكسه.اهـ
وفي الرد تحت (قوله كعكسه) أي لو وهبت لرجل ثم نكحها رجعت ولو لزوجها.اهـ (كتاب الهبة، ج: 5، ص: 704)