کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہمارا نکاح تقریباً تیس سال قبل ہوگیا تھا،اس نکاح سے ہمارے دوبچے بھی ہیں، ابھی گزشتہ رمضان میں فون پر لڑائی جھگڑے کے دوران طلاق کے الفاظ بولے ہیں جس میں اختلاف ہے۔
بیوی کا حلفیہ بیان: میں اللہ کو حاضر ناضر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہی ہوں کہ میں جو کچھ کہونگی سچ کہونگی،اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اسکا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا، رمضان میں فون پر لڑائی کے دوران میرے شوہر نے مجھے کہا "زہ بہ درتہ یو ،دوا ،درے اویم"(میں تمہیں ایک ،دو ،تین کہہ دونگا)میں نے فوراً فون رکھ دیا، اور آگے ان کی کوئی بات نہیں سنی ،پھر دو دن بعد دوبارہ لڑائی میں فون پر کہا"یو،دوا ،درے،تہ پہ ما طلاقہ یی"(ایک،دو،تین،تم مجھ پرطلاق ہو)۔
شوہر کا بیان:میں م عام طورپر لڑائی جھگڑے میں یہ الفاظ بولا کرتاتھا"زہ بہ تا تہ یو،دوا،درے اویم(میں آپ کو ایک دو تین کہہ دونگا)اب یہ رمضان میں جس دفعہ کا بیوی نے ذکر کیا ہے،کہ میں نے یہ جملہ بولا ہے"یو،دوا،درے تہ پہ ما طلاقہ یی"(ایک دو تین،تم مجھ پر طلاق ہو)اس کے بارے میں میں کوئی حلفیہ بیان نہیں دے سکتا، ممکن ہے یہی جملہ بولا ہو جو بیوی نے بیان کیا،اور یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے کی طرح بولا ہو۔
اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟اور اب آئندہ ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ میاں بیوی کے درمیان تعدادِطلاق کے بارے میں اختلاف واقع ہونے کی صورت میں بیوی پر اپنے مدعیٰ کو ثابت کرنے کیلئے دو شرعی گواہوں کو پیش کرنا ضروری ہے ، ور نہ شوہر سے قسم لی جائےگی ،اگر شوہر قسم اٹھالے تو اس کے حق میں فیصلہ ہوگا ،لیکن اگر شوہر قسم کھانے سے منکر ہو ،تو پھر بیوی کے حق میں فیصلہ کیا جائے گا،لہٰذا صورت ِمسئولہ میں سائلہ کے بقول اس کے شوہر نے اسے مذکور الفاظ"یو،دوا، درے،تہ پہ ما طلاقہ یی"(ایک دو تین تو مجھ پر طلاق ہے)کہے،اور سائلہ کے پاس اپنے اس دعویٰ پر شرعی گواہان موجود نہیں،لیکن شوہر حلف اٹھانے سے انکار کررہاہے،تو ایسی صورت میں سائلہ کا قول معتبر ہوگا۔
چنانچہ" ایک، دو، تین، تم مجھ پر طلاق ہو " سے اصولاً تو ایک طلاق واقع ہوئی،تا ہم اگر شوہر کے عرف میں ان الفاظ سے تین طلاقیں ہی سمجھی جاتی ہوں تو ان الفاظ سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے،لہذا ان دونوں پر لازم ہے کہ وہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرے، اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کرے ،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ عدت گزرنے کے بعد سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
کما فی الرد: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. وفي البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإن حلف ولا بينة لها فالإثم عليه‘‘.(كتاب الطلاق، مطلب في قول البحر:[إن الصريح يحتاج إلخ]، ج:4،ص448،ط: رشيدية)
و فی الدر(و الطلاق يقع بعدد قرن به لا به) نفسه عند ذكر العدد، و عند عدمه الوقوع بالصيغة"
و فی الرد تحتہ:(قوله: و الطلاق يقع بعدد قرن به لا به) أي متي قرن الطلاق بالعدد كان الوقوع بالعدد بدليل ما أجمعوا عليه من أنه قال لغير المدخول بها: أنت طالق ثلاثاً طلقت ثلاثاً، و لو كان الوقوع بطالق لبانت لا إلى عدة فلغا العدد ... الخ."(کتاب الطلاق ، مطلب الطلاق يقع بعدد قرن به لا به،ج:3 ،ص: 287، ط: سعيد)
وفي أصول الإفتاء وآدابه: وکذلک یعتبر اللفظي في کلام الناس،فإن کان عرفاً عاماً، یثبت به حکم یعم البلاد کلها،وإن کان عرفاً خاصاً، یقتصر الحکم به في المواضع التي جری فيها ذلک العرف، ولایثبت به حکم عامٌ في جمیع البلاد.
قال السرخسي رحمه الله:والحاصل أنه یعتبر في کل موضع عرفُ أهل ذلک الموضع فیما یطلقون عليه من الإسم،الخ(الفصل السادس،الوجه الثاني:تغیر الحکم بتغیر العرف، ص:298،299، ط:معارف القرآن)