میرے شوہر نے مجھے ایک مرتبہ پہلے بھی طلاق دی تھی آج سے ایک سال پہلے جس کے الفاظ یہ تھے، طلا ق طلاق طلاق اور کہا جاؤ اس وقت بھی شوہر نے یہ کہا تھاکہ میں نے معلوم کر لیا ہے ایک طلاق ہو گئی پھرآج سے تقریباً 4 پندرہ دن/ 16 بروز جمعرات کے رات مجھے فون پر کہا میں اسے طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ، آپ اس کو ابھی لے جاؤ اس وقت اس کے تمام گھر والے میری بیٹی اور اس کے سامنے کھڑے تھے اور میری بیٹی کی طرف اشارہ بھی کیا ، اس کے بعد پھر یہ غیر مقلدین سے فتوی لیکر آئے کہ ابھی صرف دو طلاق واقع ہوئیں ، ایک اب بھی گنجائش ہے،تو معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاق واقع ہو ئیں ، اور اب آئندہ کے لئے کیا حکم ہے، جو بھی شرعی حکم ہو تفصیل سے تحریر فرمائیں ، (نوٹ) شوہر نے غیر مقلدین کے مدرسہ میں جو سوال جمع کیا ہے اس میں اس نے یہی لکھا ہے کہ میں نے ایک وقت مین تین طلاق دی ہے اورڈھیڑ سال پہلے تین طلاق کو بھی وہ ایک طلاق شمار کرتا ہے، جب کہ اس وقت بھی تین طلاق دی تھیں ۔
واضح ہو کہ تین طلاقیں خواہ ایک مجلس میں اور ایک ہی جملے کے ساتھ دی جائیں یا مختلف مجالس میں الگ الگ جملوں کے ساتھ دی جائیں، بہر صورت قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں تین طلاقیں تین ہی شمار ہوتی ہیں، جس پر حضراتِ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعینِ عظام رحمہم اللہ تعالیٰ کا اتفاق ہے، اور امت کے چاروں اماموں، یعنی امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا بھی یہی مسلک ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی شرعاً جائز نہیں ، چنانچہ سائلہ اوراس کا شوہر نے تین طلاقون کے بعد جتنا عرصہ میاں بیوی کی طرح زندگی گذارا ہے اس پر بصدق ِ دل تو بہ و استغفاراور فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنا لازم ہے ،جبکہ سائلہ ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں شرعاً آزاد ہے۔
کما فی التنزیل العزیز:الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ( سورۃ البقرہ الآیہ 229 )
قال للہ تعالی: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ ( سورۃ البقرہ الآیہ: 230 )
وفی صحیح البخاری : عن عائشة:أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: (لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول)،اھ( باب من اجاز الطلاق الثلاث ج:5 ص: 2014 ناشر:دار ابن کثیر)
وفي الہندیۃ : وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا،الخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ، ج:1 ص : 473 ناشر : المطبعة الكبري الاميرية)
وفی حاشیۃ ابن العابدین : وفي الزاهدي أنه ثابت بإجماع الأمة. وفي المنية أن سعيدا رجع عنه إلى قول الجمهور، فمن عمل به يسود وجهه ويبعد، ومن أفتى به يعزر، وما نسب إلى الصدر الشهيد فليس له أثر في مصنفاته بل فيها نقيضه. وذكر في الخلاصة عنه أن من أفتى به فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، فإنه مخالف الإجماع ولا ينفذ قضاء القاضي به وتمامه فيه ،اھ( مطلب فی العقد علی المبانۃ ج:3 ص:410 ناشر : سعید)