کیا فرماتے ہیں علما ء دین مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرے دو بیٹوں (اسامہ، خبیر) نے میری بھابھی کا دودھ پیا ہے دونوں کی عمریں دودھ پیتے وقت چار یا پانج ماہ کی ہوگی، میرا ایک اور بیٹا بھی ہے جسکا نام نویدہے تو کیا میرے بیٹے نوید کا رشتہ میری بھابھی کی کسی بیٹی سے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ نویدنے بھابھی کا دودھ نہیں پیا ۔ براہ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں حکم شرعی بیان فرمائیں
صورت مسئولہ میں سائلہ کےجس بیٹے (نوید) نےسائلہ کی بھابھی کا دودھ نہیں پیا اگر حرمت کی کوئی اور وجہ موجود نہ ہو،تو اس کا نکاح سائلہ کی بھابھی کی بیٹی سے جائز و درست ہے شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
کما فی الھندیۃ:وتحل أخت أخيه رضاعا كما تحل نسبا مثل الأخ لأب إذا كانت له أخت من أمه يحل لأخيه من أبيه أن يتزوجها كذا في الكافي اھ(کتاب الرضاع،ج:1،ص:343،مط:مکتبہ ماجدیہ)
وفی الھدایۃ:ويجوز أن يتزوج الرجل بأخت أخيه من الرضاع" لأنه يجوز أن يتزوج بأخت أخيه من النسب وذلك مثل الأخ من الأب إذا كانت له أخت من أمه جاز لأخيه من أبيه أن يتزوجها اھ(کتاب الرضاع،ج:2،ص:351،مط:مکتبہ شرکت علمیہ)
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0