السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کیافرماتےہیں ۔
مسئلہ : برائے طلاق
شرط :اگر دینی پڑے تو میں دوں گااگلےدس دن میں ، ہفتےمیں ،پانچ دن میں ۔
حضرت! میں نے کمپیوٹر میں ٹائپ کیا ،کہ میں رف مضمون بنارہاہوں اس میں تبدیلی کرنی پڑے گی تو میں کروں گا ،لیکن ٹائپ کرتے وقت میں نے ارادہ کیا ہواتھا اگر طلاق دینی پڑے تو میں آگے جاکر دوں گا ،لیکن ٹائپ کرتے وقت میری نیت بھی نہیں تھی اور ارادہ بھی نہیں تھا ،صرف رف مضمون بنارہا ہوں اور آگے جاکر اگلے دنوں میں دوں گا۔ مطلب شرط یہ رکھی تھی کہ ابھی دے رہا نہیں ہوں صرف کمپیوٹر پر ٹائپ کی رف مضمون بنایا اور یہ مضمون بھی کسی اور طلاق نامہ سے دیکھ کر ٹائپ کیا اور ٹائپ کرتے وقت حرف بہ حرف دھرایا بھی نہیں اور اس میں گواہان کی موجودگی میں دوں گا۔ لیکن گو اہان کا نام بھی نہیں لکھا اور پرنٹ نکال کر اپنے دستخط بھی نہیں کئے۔ کیا حضرت یہ طلاق واقع ہو گئی ہےکہ نہیں ؟رہنمائی کرے مستندفتوی کی صورت میں۔جزاک اللہ۔
(نوٹ: جوٹائپنگ کی ہے اس کی کاپی لف ہےاوریہ شرط بھی تھی کہ اگردینی پڑے گی توسٹامپ پیپرپر پرنٹ نکال کردوں گا، فی الحال رف مضمون رف کاغذ پر ٹائپ کیا ہے)
واضح ہو کہ جس طرح زبان سے طلاق کےالفاظ بولنےسے طلاق واقع ہوجاتی ہے، بالکل ایسا ہی طلاق نامہ میں غیر مشروط طلاق لکھنےیاپہلے سےتیارشدہ طلاق نامہ پردستخط کرنےسےبھی شرعاًطلاق واقع ہوجاتی ہےنیز صریح الفاظ طلاق میں نیت شرعاً ضروری نہیں اور نہ ہی گواہوں کی موجودگی یا اسٹامپ پیپرپرپرنٹ نکالناضروری ہے، بلکہ ان سب کےبغیر بھی اس سے طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا سوال کے ساتھ منسلکہ طلاق نامہ میں درج صریح الفاظ "میں اپنی منکوحہ سائرہ مصطفیٰ کوسہہ بارطلاق،طلاق،طلاق دیتاہوں" سے سائل کی بیوی پرتین طلاقیں واقع ہوکرحرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اگر چہ اس وقت سائل کی نیت طلاق دینے کی نہ ہو، اب نہ رجوع ہوسکتاہے ، اورنہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدنکاح ہوسکتا ہے، لہذا دونوں پرلازم ہےکہ ایک دوسرےسےعلیحدگی اختیارکریں اورمیاں بیوی والےتعلقات ہرگزقائم نہ کریں ،ورنہ دونوں سخت گناہ گارہوں گے،جبکہ سائل کی بیوی عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کمافي البحر الرائق شرح كنز الدقائق: قوله: (ويقع طلاق كل زوج عاقل بالغ) لصدوره من أهله في محله (الي قوله)ولم يشترط أن يكون جادا فيقع طلاق الهازل به، واللاعب للحديث المعروف «ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح، والطلاق، والعتاق»،الخ (ج: 3، كتاب الطلاق، ص: 244، مکتبۃرشیدیۃکوئٹۃ)
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو،الخ(الفصل السادس في الطلاق بالكتابة، ج:1، ص: 378، مط: ماجدیۃ)
وفی المحیط البرھانی: الأول: أن تكتب هذا كتاب فلان بن فلان إلى فلانة أما بعد: فأنت طالق. وفي هذا الوجه يقع الطلاق عليها في الحال.وإن قال: لم أعنِ به الطلاق لم يصدق في الحكم، وهذا لأن الكتابة المرسومة بمنزلة المقال.
(الی قولہ): وفي «العيون» : إذا كتب إلى امرأته أما بعد أنت طالق إن شاء الله، فإن كان كتب إن شاء الله موصولاً بكتابته أما بعد فأنت طالق لا تطلق، وإن فتر فترة بعدما كتب أنت طالق ثم كتب إن شاء الله تطلق؛ لأن الكتاب من الغائب بمنزلة التلفظ من الحاضر.(الفصل السادس: في إيقاع الطلاق بالكتابات، ج: 3، ص: 274،276، مط: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)
وفي الهداية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها والأصل فيه قوله تعالى: "فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره" .(باب الرجعة، ج:2، ص:399، مط:شركت علمية ملتان)