کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرا نکاح ایک شخص کے ساتھ آج سےتقریباً گیارہ ، بارہ سال قبل ہوگیا تھا ، اس نکاح سے ہمارے تین بچے بھی ہیں، آج سے تقریباً دو سال قبل میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دی تھی، مجھے مارا ، میرے کپڑے پھاڑےاور پھر کہا "تہ پہ ما طلاقہ ئے،
طلاقہ ئے،طلاقہ ئے "تم مجھ پرطلاق ہو ،یہ جملہ تین مرتبہ بولا، اس وقت میری دس سال کی بیٹی ثناء بھی موجود تھی، ان کا بھی یہی بیان ہے، لیکن بچوں کی خاطر میں نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی، اس کے بعد ہم کراچی آئے، اور ان کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا، پھر دو مہینے کے بعد پھر کہا کہ " تہ پہ ما طلاقہ ئے، طلاقہ ئے ، طلاقہ ئے، جہاں جانا ہے جاؤ "اور صبح گھر سے چلے گئے،
لڑکے کے والد کا بیان ہے کہ میرے بیٹے نے میرے بھانجے کو میسج کیا تھا، کہ میں نے تو اپنی بیوی کو گاؤں میں ہی تین طلاق دی تھی، اور بھانجے نے یہ میسج مجھے بھی سنایا ہے، میں نے بھی سنا کہ وہ کہہ رہا تھا، میں نے گاؤں میں تین طلاق دی تھی، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور اب آئندہ ہمارے لیے کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہرنے لڑائی جھگڑے کے دوران گاؤں میں پہلی دفعہ مذکور جملہ " تہ پہ ما طلاقہ ئے ، طلاقہ ئے، طلاقہ ئے" کہااورپھراپنی اس بات پر مذکور بھانجے کومیسج کرکے گواہ بھی بنایاتھا،جس نے سائلہ کے سسر کوبھی اس پرمطلع کیاتھا، تواس پہلی بارکے جملہ سے ہی سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی،اس کے دوماہ بعددوبارہ کہے گئے الفاظ کاشرعاًکوئی اعتبارنہیں ، اب رجوع نہیں ہوسکتااورحلالہ شرعیہ کے بغیرباہم عقدنکاح بھی ممکن نہیں ، چنانچہ اگرطلاق کے مذکورالفاظ اداکرنے کے بعدسے سائلہ کے شوہراوراس کے درمیان میاں بیوی والے تعلقات قائم نہ ہوئے ہوں تو تین ماہواری کے اختتام پر سائلہ کی عدت گزرچکی ہے ،اب وہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزادہے۔
کما فی احکام القرآن للجصاص : قال أبو بكر: قوله تعالى : ( الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان ) الآية ، يدل على وقوع الثلاث معامع كونه منهياعنها،اھ(ج: ١ ، ص : ٣٨٦ )
وفیہ ایضاً : فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا و إن كانت معصية، اھ (ج:١، ص: ٣٨٧ )
و فی الفتاوی الھندیۃ : و إذا قال لامرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً اھ ( کتاب الطلاق، الفصل الأول في الطلاق الصريح، ج:١،ص:٣٥٥،مط: ماجدیۃ)
و في الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اه (كتاب الطلاق ،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: ١، ص: ٤٧٣، مط: ماجدية )
وفي الدر المختار: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) حتى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) يجامع مثله،اه(باب الرجعة، ج: ٣، ص: ٤١٠، مط: سعيد)