کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہم میاں بىوى کے درمیان موبائل پر لڑائی ہو رہی تھی، تو اس دوران میرے شوہر نے پہلے کال پر یہ بولا کہ "تم میری طرف سے فارغ ہو" میں نے کال کاٹ دی، پھر انہوں نے کال کی اور بولا کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" میں نے پھر ڈر سے کال کاٹ دی، میں ڈر گئی تھی، پھر انہوں نے کال کی، پھر انہوں نے بولا "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، دو مرتبہ پہلے، دو مرتبہ بعد میں الگ الگ ٹائم میں بولا ہے ، ایک ساتھ تین الفاظ نہیں بولے، بقول ان کے جو پہلے دو مرتبہ بولا ہے وہ میں نے ڈرانے کے لیے بولا ہے، یہ بول دینے میں میرا کوئی ارادہ نہیں تھا طلاق دینے کا، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہو ئىں اور اب آئندہ ہمارے لیے کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ مىں سائلہ كے شوہرنے كال پر لڑائی جھگڑے کے دوران جب مذكور الفاظ "تم میری طرف سے فارغ ہو" كہے تو چونكہ مذكور الفاظ عرف مىں طلاق صريح بائن كے لىئے استعمال ہوتے ہىں ،جن سے بغير نىت بھى طلاق واقع ہوجاتى ہے، لہذا ان الفاظ سے سائلہ پر ايك طلاق بائن واقع ہو چكى تھى، پھر اس كے بعد سائلہ كے شوہر نے كال كركے جب دودفعہ ىہ كہا كہ "مىں تمہىں طلاق دىتا ہوں ، مىں تمہىں طلاق دىتا ہوں " تو اس سے سائلہ پر مزيد دو طلاقىں واقع ہوكر مجموعى طور پر تىن طلاقوں كے ساتھ حرمت مغلظہ ثابت ہوگئى، تيسرى بار كے الفاظ سائلہ كے طلاق كا محل نہ ہونے كى وجہ سے لغو شمار ہوں گے.
اب رجوع نہىں ہو سكتا اور حلالۂ شرعيہ كے بغير مىاں بىوى كا باہم عقد نکاح بھى نہىں ہوسکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحد گی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلق ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے.
جبکہ عورت ایام عدت گزرجانے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
كما في رد المحتار: بيان ذلك أن حالة الغضب تصلح للرد والتبعيد والسب والشتم كما تصلح للطلاق (إلى قوله) بخلاف ألفاظ الأخير: أي ما يتعين للجواب لأنها وإن احتملت الطلاق وغيره أيضا لكنها لما زال عنها احتمال الرد والتبعيد والسب والشتم اللذين احتملتهما حال الغضب تعينت الحال على إرادة الطلاق فترجح جانب الطلاق في كلامه ظاهرا، فلا يصدق في الصرف عن الظاهر، فلذا وقع بها قضاء بلا توقف على النية كما في صريح الطلاق إذا نوى به الطلاق عن وثاق.إلخ (باب الكنايات، ج: 3، ص: 301، ط: ايج ايم سعيد )
وفي الهداية: وفي حالة مذاكرة الطلاق لم يصدق فيما يصلح جوابا ولا يصلح ردا في القضاء مثل قوله خلية برية بائن بتة حرام اعتدي أمرك بيدك اختاري لأن الظاهر أن مراده الطلاق عند سؤال الطلاق (إلى قوله) وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها لأن الغضب يدل على إرادة الطلاق (باب إيقاع الطلاق، فصل في الطلاق قبل الدخول، ج: 1، ص: 235، ط: دار احياء التراث العربي، بيروت - لبنان)
وفي الدر المختار: (الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة.إلخ
وفي رد المحتار: (قوله ويلحق البائن) كما لو قال لها أنت بائن أو خلعها على مال ثم قال أنت طالق أو هذه طالق بحر عن البزازية، ثم قال: وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة.اهـ (باب الكنايات، ج: 3، ص: 306، ط: إيج إيم سعيد)
وفي رد المحتار: (قوله وما بمعناها من الصريح) أي مثل ما سيذكره من نحو: كوني طالقا واطلقي ويا مطلقة بالتشديد، وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر. (باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 248، ط: ايج ايم سعيد)
وفی بدائع الصنائع : فإن كانا حرين فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد (إلى قوله) وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية (إلى قوله) سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة. ( کتاب الطلاق ، فصل فی حکم الطلاق البائن ، ج: 3، ص: 187، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار: (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ (إلى قوله) كما سنحققه (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) ولو قبل الدخول (إلى قوله) (حتى يطأها غيره إلخ (باب الرجعة، ج: 3، ص: 409-410، ط: إيج إيم سعيد)