کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرے شوہر نے دو سال پہلے رمضان کے مہینے میں لڑائی جھگڑے کے دوران کہا تھا"تہ زمانہ آزادہ یی"(تم مجھ سے آزاد ہو) ،پھر تین انگلیاں شمار کرکے کہا "یو،دوہ، درے،طلاق"(ایک دو تین طلاق) ،اور اس کے بعد سے ہم دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی؟اور اگر اب ہم بچوں کی وجہ سے دوبارہ گھر آباد کرنا چاہیں تو اسکا کیا حکم اور طریقہ ہے؟اور حق مہر کا کیا حکم ہے؟
سائلہ کا بیان اگر وا قعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیا نی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعۃًسائلہ کےشوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران یہ الفاظ "تہ زمانہ آزادہ یی"(تم مجھ سے آزاد ہو) اور پھر یہ الفاظ کہ"یو،دوا،درے،طلاق(ایک دو تین طلاق) کہے ہوں تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے،جبکہ سائلہ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، اور حق مہر بھی سابقہ شوہر کے ذمہ لازم ہے، تاہم اگر دونوں دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو اس کیلئے حلالہ شرعیہ ضروری ہے، اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے) کے فورا بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے، بہردوصورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تونئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ،تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی بیوی کو نکاح کے بعد طلاق دیدے گا ،تا کہ وہ زوجِ اول کے لئے حلال ہو جائے مکروہ تحریمی ہے ، جس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، البتہ بغیر کسی شرط کے اس کے ساتھ نکاح کر نا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما جاء فی التنزیل العزیز: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُ ۥۗ ، الآیۃ (البقرۃ:230)
وفی صحیح البخاری: عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: "لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول"(کتاب الطلاق،باب من اجاز طلاق الثلاث،ج:5،ص:2014،ط:دار ابن الکثیر،رقم:4961)
وفی الدرالمختار: وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.(ج:3،ص:233،مط:سعید)
وفی الھندیۃ: متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق۔(ج:1،ص:156،مط:ماجدیہ)
و فی الشامیۃ: ويدل على ذلك ما ذكره البزازي عقب قوله في الجواب المار إن المتعارف به إيقاع البائن لا الرجعي، حيث قال ما نصه: بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ(کتاب الطلاق،باب الکنایات،ج:3،ص:299،ط:سعید)
و فی الدر(و الطلاق يقع بعدد قرن به لا به) نفسه عند ذكر العدد، و عند عدمه الوقوع بالصيغة"
و فی الرد تحتہ:(قوله: و الطلاق يقع بعدد قرن به لا به) أي متي قرن الطلاق بالعدد كان الوقوع بالعدد بدليل ما أجمعوا عليه من أنه قال لغير المدخول بها: أنت طالق ثلاثاً طلقت ثلاثاً، و لو كان الوقوع بطالق لبانت لا إلى عدة فلغا العدد ... الخ."(کتاب الطلاق ، مطلب الطلاق يقع بعدد قرن به لا به،ج:3 ،ص: 287، ط: سعيد)