کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ !
میں نے غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو تین دفعہ الگ الگ کہہ کر" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کہہ دیے تو کیا اس حالت میں طلاق ہو جاتی ہے؟ جبکہ میں طلاق ایک مرتبہ نہیں دے رہا تھا ،لہذاشریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔نوٹ : جب کہ میں نے یہ سوچا تھا کہ غصے کی حالت میں طلاق نہیں دیا جاتا بلکہ یہ سوچ سمجھ کردی جاتی ہے ۔
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا جب سائل نے اپنی بیوی کو غصے کی حالت میں صریح الفاظ " میں تمھیں طلاق دیتا ہوں " کے ذریعہ تین د فعہ طلاق دیدی ہے تو اس سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، لہذا اب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
كما في الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اھ (كتاب الطلاق ،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: ١، ص: ٤٧٣، مط: ماجدية )
وفي الدر المختار: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) حتى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) يجامع مثله اھ(باب الرجعة، ج: ٣، ص: ٤١٠، مط: سعيد)
وفي البدائع: ولو قال لها: أنت طالق طالق أو قال: أنت طالق أنت طالق أو قال: قد طلقتك قد طلقتك، أو قال: أنت طالق قد طلقتك يقع ثنتان إذا كانت المرأة مدخولا بها؛ لأنه ذكر جملتين كل واحدة منهما إيقاع تام لكونه مبتدأ وخبرا، والمحل قابل للوقوع،اھ(كتاب الطلاق، فصل في النية في احد نوعي الطلاق، ج: ٣، ص: ١٠٢، مط: سعيد)