کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلے میں کہ میری بیٹی کا نکاح ہو گیا تھا ، ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی ، اور نہ ہی دونوں کے درمیان خلوت صحیحہ ہوئی ہے ،کچھ وجوہات کی بنا پر لڑکے نے میری بیٹی کوطلاق دی ہے، طلاق کے الفاظ یہ کہ میں ۔۔۔۔۔آپ کو طلاق دے رہاہوں ۔۔۔۔ ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں “ا ب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور اب آئندہ کے لئے ان کے کیا حکم ہے؟
صورت مسؤلہ میں اگر واقعۃً شوہر نے اپنی بیوی کو خلوتِ صحیحہ سے پہلے سوال میں درج طریقے کے مطابق ایک ایک طلاق پرمشتمل الگ الگ جملے بولے ہوں ،اور ابتدائی جملہ یکمشت تین طلاقوں پرمشتمل نہ ہو ،مثلاً یونہ بولا ہو کہ میں آپ کو تین طلاقیں دے دی ہیں ،تو ایسی صورت میں پہلے جملے ” میں۔۔۔۔ آپ کو طلاق دے رہا ہوں “سے سائل کی بیٹی پر ایک طلاق بائن واقع ہو گئی ہے، جس کے بعد اس کا اپنے شوہر سے نکاح ختم ہو گیا ،اور ان پر عدت گذارنا بھی لازم نہیں چنانچہ وہ بغیر عدت گذارے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی تاہم اگر دونوں دوبارہ ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا چاہیں ، تو باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید نکاح کرکے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، لیکن آئندہ کے لئے شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا،اس لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہیئے۔
کمافی حاشیۃابن العابدین : (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) ،الخ(باب الطلاق غیر مدخول بہا ، ج:3 ص : 286 ناشر : سعید )
وفی الہندیۃ : إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة،الخ( فصل فی الطلاق قبل الدخول،ج:1 ص: 373 ناشر :ماجیدیہ)
وفی در المختار : و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)على الاصح ،الخ( كتاب النكاح ، ص : 178ناشر: بیروت)