السلام علیکم، میں آپکی خدمت میں ایک بات عرض کرنا چاہتاہوں،میری شادی 2009 میں اپنے تایا کی بیٹی سےہوئی، شادی کے ان بارہ سالوں میں بھی میری زوجہ گھرمیں مختلف مسائل پیدا کرتی رہی،اور ناراض ہوکر چلی جاتی،اور میں ہر بار ان کو مناکے لاتا، مختلف جرگے کئے جاتے،میری تین بیٹیاں ہیں،دو میرے پاس ہیں،اور ایک میرے بھائی نے لی ہے ،کیونکہ اس کی اولاد نہیں، اور ایک بڑی بچی معذور ہے، چل نہیں سکتی، اب پانچ سال سے میری بیوی مجھ سے پھر سے ناراض ہوکر گئی ہے، اور میں نے اس کو واپس لانے کیلئے کافی جرگے کئے ہیں ،مگر وہ نہیں آرہی،شادی کے اس پورے عرصے میں میری بیوی پہلے اپنے کزن کی وجہ سے اور اب اپنے ماموں کے بیٹے کی وجہ سے گھر چھوڑ کر چلی گئی ہے،کیونکہ وہ اسے پسند کرتی ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتی ہے،مگر میں اپنی بچیوں کی خاطر پھر بھی اسے رکھنا چاہتا ہوں، میری معذور بچی کی وجہ سے مجھے دوسری شادی کرنا پڑی، کیونکہ اسے سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا، اور میری والدہ بیمار ہے،اور میرے والد حیات نہیں ہے، میں اپنی پہلی بیوی کو بھی رکھنا چاہتاہوں، مگر میری بیوی مجھ سے طلاق مانگ رہی ہے اور حق مہر بھی چاہتی ہے، اگر وہ مجھ سے خود طلاق لے رہی ہے،تو کیا میرا اسے حق مہر دینا واجب ہے یا نہیں؟میری بیوی نے جاتے ہوئے مجھ سے تین تولے سے زیادہ سونا تھا وہ بھی چھپاکر لے گئی،اور کچھ نقد رقم بھی لے کر گئی ہے ،اب وہ زیور بھی نہیں دینا چاہتی،طلاق بھی چاہتی ہے اورحق مہر بھی، آپ مجھے بتادیں کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیئے؟
صورت مسئولہ میں اگر مذکور بیان واقعۃً سچ اور مبنی بر حقیقت ہو اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو سائل کی بیوی کا مذکور رویہ شرعا جائز نہیں ، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوئی ہے،اس پر لازم ہے کہ اپنے اس رویہ سے باز آئے،اور خوش اسلوبی سے اپنا گھر بسانے کی فکر کرے،تا ہم اگر سائل کی بیوی اپنے اس رویے سے باز نہ آئے اوروہ سائل سے طلاق اور علیحدگی پر ہی مصر ہو، تو اس صورت میں سائل اس سے خلع کا معاملہ کرسکتا ہے، جس میں سائل اپنے ذاتی سونے کی واپسی کا مطالبہ اور حق مہر سے دستبرداری کی شرائط بھی عائد کرسکتا ہے،جس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
کما فی مشکوٰۃ المصابیح: وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لو كنت آمرًا أحدًا أن يسجد لأحدٍ لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها». رواه الترمذي". (، كتاب النكاح، باب عشرة النساء ص: 281 ط: قديمي)
وفی الہدایۃ: «وإذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به " لقوله تعالى: {فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ} [البقرة: 229] " فإذا فعلا ذلك وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال(کتاب الطلاق، باب الخلع،ج:2،ص:261،ط:داراحیاء التراث العربی)