کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکا جس کا نکاح ہواہے،اور رخصتی نہیں ہوئی،نکاح کے دو سال بعد لڑکی والوں کو شادی کیلئے کہا گیا، تو لڑکی کے والد نے انکار کردیا اور کہا کہ شادی پانچ سال بعد کرینگے،جبکہ لڑکے نے کہا کہ اگر اسی سال گرمی کے موسم سے پہلے شادی نہیں ہوئی تو لڑکی مجھ پر طلاق ہوگی، لڑکے سے جب پوچھا گیا، تو لڑکے نے سب سے کہا کہ میں نے اس طرح کہا ہے، حالانکہ شروع میں یہ الفاظ ایک دفعہ ہی ادا ہوئے ہیں، اب جبکہ گرمی شروع ہونی والی ہے، اور لڑکی کا والد پانچ سال پر بضد ہے،تو شرعی جواب درکار ہے، جبکہ نکاح کے وقت لڑکی نابالغ تھی، اور اب دوسال گزرنے کے بعد چودہ سال کی ہوگئی ہے،اگر طلاق ہوگئی ہے تو دوبارہ نکاح کا کیا طریقہ کار ہے؟جواب درکار ہے، شکریہ!
واضح ہو کہ طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرنے سے شرعاً وہ معلق ہوجاتی ہے، اس کے بعد پھر جب بھی وہ شرط پائی جائےگی تو طلاق واقع ہوجائیگی،لہذا صورت مسئولہ میں اگر چہ رخصتی نہیں ہوئی مگر چونکہ نکاح ہوچکا ہے، (خواہ بوقت نکاح لڑکی نابالغ ہی ہو)اس لئےجب مذکور لڑکے نے طلاق کو موسم گرما کے شروع ہونے پر معلق کردیا تو ایسی صورت میں گرمی کاموسم شروع ہونے تک اگر رخصتی نہیں ہوئی تو ایک طلاق بائن واقع ہوکر نکاح ختم ہوجائیگا، اور عدت کے بغیر لڑکی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی،البتہ اگر لڑکا لڑکی اور ان کے خاندان باہمی رضامندی کے ساتھ اس رشتہ کو جوڑنے پر آمادہ اور تیار ہوں تو باضابطہ گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتےہیں ،تاہم اس کے بعد مذکور لڑکے کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا ،اس لئے طلاق کے معاملہ میں احتیاط لازم ہے۔
کما فی الہدایۃ: «وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق "»( کتاب الطلاق، باب الایمان فی الطلاق، ج:2،ص،81،ط:انعامیہ،
و فی الہندیۃ: و اذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط الخ(کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، الفصل الثالث،،ج:1،ص:413،ط:ماجدیہ)
و فی الدر: «وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق،»(کتاب الطلاق،باب طلاق غیر المدخول بھا،ج:3،ص286، ط:سعید)