کیا فرماتےہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ مسماۃ علیزہ ریحان کا نکاح آج سے انیس سال قبل مسمی محمد ریحان رانا سے ہوگیا تھا،شادی شدہ زندگی میں دوہزار سولہ سےکئی مرتبہ میرےشوہر طلاق کےالفاظ بول چکے ہیں،لیکن کبھی ایک مرتبہ کبھی دو مرتبہ لیکن تین مرتبہ نہیں بولے تھے،الفاظ طلاق یہ ہوتے تھے”میں تمہیں طلاق دیتاہوں“ یا ایسا بولتے تھےکہ”میں نے تمہیں طلاق دی“اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتارہا،اورتقریباًبیس سے پچیس مرتبہ بولے ہوں گے،لیکن ہم بدستور میاں بیوی کی طرح رہتے رہے ،ابھی دوہزار انیس میں ایک ساتھ تین مرتبہ طلاق دی،الفاظ ِطلاق یہ تھےکہ” میں تمہیں طلاق دیتاہوں“یہاں تک تو دونوں میاں بیوی متفق ہیں ،لیکن دوہزار انیس کے الفاظ کےبارے میں شوہر کا بیان ہے کہ میں نے صرف اتنا کہاتھا کہ طلاق،طلاق،طلاق اب معلوم کرناہےکہ اس صورت میں کتنی طلاق واقع ہوتی ہےاور اب آئندہ ہمارے لیے کیا حکم ہے۔
صورت مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے دوہزار سولہ سےوقتاً فوقتاً واضح الفاظ (جیسےمیں نے تمہیں طلاق دی یا میں تمہیں طلاق دیتاہوں وغیرہ) کےساتھ سائلہ کو طلاق دینے کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اس پر دونوں میاں بیوی کا اتفاق بھی ہے اور دونوں دوہزار انیس تک مسلسل ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح اکٹھے رہتے آرہے ہوں (جیسا کہ سوال میں درج ہے) تو جس موقع پر تین طلاقوں کی گنتی پوری ہو گئی تھی، اسی دن سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہو کر وہ اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی تھی، جس کے بعد میاں بیوی کی طرح رہنے سے دونوں حرامکاری کے مرتکب ہوئے ہیں، اس لیے دونوں پر بصدق دل توبہ و استغفار لازم ہے، جبکہ دوہزار انیس کی طلاقیں عورت محلِ طلاق نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں ، ان دونوں پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور عورت عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسرے شخص سے شادی کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما قال اللّٰہ تعالیٰ : اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ (الی قولہ) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْد حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ ۔الآیۃ(البقرۃ آیت : 229،230)
وفی الفتاوی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز،أما الإنزال فليس بشرط للإحلال۔اھ(کتاب الطلاق،ج:1،ص:473،ط:ماجدیۃ)۔