کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمیٰ تاج پرین نے کچھ گھریلو مسائل کی وجہ سے اپنی بیوی کو دو گھروں میں جانے سے منع کیا تھا، ایک ان کے بھائی کے گھر سے منع کیا تھا، اور یہ الفاظ کہے " کہ تہ خپل رور کرہ لاڑے نو قرآن می دی اووئی چہ زما نہ بہ پاتے ئے" اگر تم اپنے بھائی کے گھر گئی تو قرآن کی قسم تم مجھ سے رہ جاوگی، چھوٹ جاو گی،اور ایک اورگھر جو میرے رشتہ دار ہیں اس کے بارے میں بھی یہی الفاظ بولے تھے، لیکن اسمیں قرآن قسم کے الفاظ نہیں تھے، بس یہی کہا تھا " کہ چرے تہ ھغی کرہ لاڑے نو زما نہ بہ پاتے ئے" مجھے نہیں معلوم، نہ یاد ہے کہ ان الفاظ کے بولتے وقت میری کوئی نیت نہیں تھی ، بس غصہ میں یہی الفاظ بولے تھے ،اب معلوم کرنا ہےکہ صلح کے بعد اگر میری بیوی ان گھروں میں جاتی ہے ، تو کیا اس سے ہمارے نکاح پرکوئی اثر پڑے گا ، جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کا اپنی بیوی سے یہ کہنا" کہ تہ خپل رور کرہ لاڑے نو قرآن می دی اووئی چہ زما نہ بہ پاتے ئے"اور" کہ چرے تہ ھغی کرہ لاڑے نو زما نہ بہ پاتے ئے"یہ الفاظ پشتو عرف و محاورہ کے اعتبار سے اگرمطالبہ طلاق یا میاں بیوی کے جھگڑے کے دوران بولے جائیں تو ان الفاظ سے طلاق ِصریح مرادہوتی ہے ،جواردومیں "میں نے تجھے چھوڑ دیا” کے ہم معنی ہیں۔
لہٰذا سائل کے مذکورہ الفاظ اداکرنے سے اس کی بیوی پرطلاق معلّق ہوچکی ہےاورطلاق کو اگر کسی شرط کے ساتھ معلق کر دیا جائے تو شرط کے پائے جانے کی صورت میں معلق طلاق شرعاً واقع ہو جاتی ہے،چنانچہ سائل کی بیوی کےان دونوں گھروں میں سے ہرایک گھرمیں جانےسے(خواہ صلح سے پہلےجائے یاصلح کےبعد ) شرط پائے جانے کی وجہ سےطلاق رجعی واقع ہوجائے گی یعنی بھائی کےگھرجانےسےایک طلاق واقع ہوجائیگی اور دوران عدت دوسرےرشتہ دارکے گھرمیں جانے سے دوسری طلاق واقع ہوجائےگی جس کے بعد سائل عدت کے دوران رجوع کرسکتاہے،لیکن آئندہ کےلیے سائل کوفقط ایک طلاق كا اختیارہوگا۔
البتہ شرعی طورپراس معاملہ کودوطلاق کے بجائے ایک طلاق تک محدودرکھنے کی بھی گنجائش ہے ،جس کاطریقہ یہ ہے کہ سائل اپنی بیوی کو مذکور بھائی کے گھربھیج دے ،جس سے اس کی بیوی پرمعلق ایک طلاق واقع ہوجائے گی ،جس کے بعدوہ رجوع نہ کرے ، یہاں تک کہ عدت گزرجائےاوربیوی دوران عدت اس رشتہ دارکے گھرجانے سےگریزکرے ،جب عدت گزرجائے توبیوی اس رشتہ دارکے گھرچلی جائے ، اس وقت چونکہ بیوی اسکے نکاح میں نہ ہوگی، اس لئے اس پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، اور مذکور شرط بھی پوری ہو جائے گی، اسکے بعد باہمی رضامندی سے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرلے، تجدیدِ نکاح کے بعد مذکورگھروں میں جانے کی وجہ سے مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوگی،اور اس صورت میں شوہر کوآئندہ دو (2) طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے ۔
كما في الهداية: وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق وهذا بالاتفاق( باب الايمان في اطلاق ج:٢ ص:٨١،ناشر: انعامية)
وفی ردالمحتار : فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا ، و ما ذاك إلا لانہ غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب و الفرس وقع به البائن و لو لا ذلك لوقع به الرجعي . اھ (باب الکنایات،ج:٣،ص:٢٩٩،ناشر:ایچ ایم سعید)
وفی الہندیۃ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.اھ (الباب السادس فی الرجعۃ،ج: ١،ص: ٤٧٠، مط: ماجدية)
وفي تنوير الأبصار مع الدر المختار: وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها، اھ(کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج: ٣، ص: ٣٥٥، مط: سعيد)