السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسماۃ دل شاد نے تسلیم کے بیٹے ریحان کو مدت رضاعت میں دودھ پلایا ، تو کیا مسماۃ دل شاد کے بیٹے ہارون کے ساتھ تسلیم کی بیٹی لائبہ کا نکاح شرعاً جائز ہے؟ جبکہ اس بیٹی (لائبہ ) کو دلشاد نے دودھ نہیں پلایا، اورنہ ہی تسلیم نے ہارون کو دودھ پلایا ہے جو بھی حکم شرعی ہو اس سے آگاہ فرمائیں۔
واضح ہوکہ مدتِ رضاعت میں دودھ پینے کی وجہ سےصرف دودھ پینے والے/والی کا رشتہ مرضعہ اور اس کےاصول وفروع اور شوہرکے ساتھ حرام ہوتا ہے،اس کے دیگر بہن بھائیوں کا رشتہ حرام نہیں ہوتا،لہذا صورتِ مسؤلہ میں مسماۃ لائبہ نے چونکہ مدّتِ رضاعت میں مسماۃ دلشاد کا دودھ نہیں پیا اور نہ ہی مسمی ٰ ہارون نے مسماۃ تسلیم کا دودھ پیا ہے، لہذا مسمیٰ ہارون اور مسماۃ لائبہ کے مابین اگرکوئی اور وجہ حرمت نہ پائی جارہی ہوتوان دونوں کا آپس میں نکاح کرنا شرعاًجائزہے ۔
کما فی الدر المختار:(وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر (و) كذا (نسبا) بأن يكون لأخيه لأبيه أخت لأم، فهو متصل بهما لا بأحدهما للزوم التكرار كما لا يخفى اھ (باب الرضاع، ج: ٣، ص: ٢١٧، مط: سعيد)
وفی المبسوط للإمام السرخسي: ولو أن امرأتين لإحداهما بنون وللأخرى بنات فأرضعت التي لها البنات ابنا من بني الأخرى، فإنما تحرم بناتها على ذلك الابن بعينه؛ لأنه صار أخا لهن من الرضاعة، ولا يحرم أحد من بناتها على سائر بني المرأة الأخرى؛ لأنه لم يوجد بينهم الأخوة من الرضاعة حيث لم يجتمعوا على ثدي واحد، ولو كانت المرأة التي لها البنون أرضعت إحدى بنات الأخرى حرمت تلك الابنة على بني المرضعة وغيرها من بناتها يحل على المرضعة، ولو كانت أم البنات أرضعت أحد البنين وأم البنين أرضعت إحدى البنات لم يكن للابن المرتضع من أم البنات أن يتزوج واحدة منهن وكان لإخوته أن يتزوجوا بنات الأخرى إلا الابنة التي أرضعتها أمهم وحدها؛ لأنها أختهم من الرضاعة اھ(کتاب الرضاع، باب تفسیر لبن الفحل، ج: ٣٠، ص: ٣٠١، مط: دار المعرفة)
وفي الهندية: وتحل أخت أخيه رضاعا كما تحل نسبا مثل الأخ لأب إذا كانت له أخت من أمه يحل لأخيه من أبيه أن يتزوجها كذا في الكافي،اھ(کتاب الرضاع، ج: ١، ص: ٣٤٣، مط: ماجدية)
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0