میرے شوہر اور میری لڑائی ہوگئی، ہماری شادی کو 8 سال ہو گئے ہیں۔ ان 8 سالوں میں کبھی ایسی لڑائی نہیں ہوئی تھی، چھوٹی بڑی ہوتی تھی لیکن اس بار زیادہ بڑی لڑائی ہوگئی۔ وجہ یہ تھی کہ ایک انجان لڑکی نے انہیں ٹک ٹاک (TikTok) پر میسج کیا، ہم دونوں ساتھ بیٹھے تھے، انہوں نے اس کی پروفائل وزٹ کی، مجھے بھی دکھائی اور میسجز بھی دکھائے۔ کہنے لگے کہ اسی علاقے کی ہے، اس لئے ریپلائی کر رہا ہوں۔ میں نے بھی کچھ غلط نہیں سوچا اور ان کی بات ہوگئی۔ اس کے بعد میں شام میں دو گھنٹے کے لئے اپنی امی کے گھر چلی گئی اور رات کو واپس بھی آگئی۔ اب ان دو گھنٹوں میں ان کی لگاتار کالز پر باتیں ہوئی اور نمبر ایکسچینج (exchange) ہوگئے۔ رات میں بھی وہ لیٹ آئے، ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا لیکن اس بار ہوا، پھر رات میں گھر آکر وہ بچوں کے ساتھ سو گئے، میرے پاس نہیں آئے اور نہ بات کی۔ میں ٹینشن میں جاگتی رہی۔
اگلے دن میں نے ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ لڑکی کا چکر ہے یا کچھ اور، جس پر گھر میں بہت لڑائی ہوئی۔ انہوں نے مجھے مارا، 8 سال میں پہلی بار ایسا ہوا۔ خیر میں نے ضد کر لی کہ مجھے اب نہیں رہنا، مجھے طلاق چاہیئے۔ کورٹ ہمارے گھر کے قریب ہے، میں نے مار کھائی تھی تو غصے میں نکل گئی اور جا کر اسٹیمپ پیپر پر طلاق کی تفصیلات لکھوا کر آئی۔ وہاں کہا گیا کہ ایسا نہیں ہوتا، سائن ہسبنڈ ہی کرتا ہے، میں نے کہا آپ بنا دیں میں دے دوں گی۔ خیر وہ میں بنوا کر آگئی اور میں نے بہت ضد کی کہ اس پر سائن کرو۔ مجھے پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا، میں نے اتنا زور دیا، انہوں نے معافی مانگی، پاؤں پکڑے کہ اب ایسا نہیں ہوگا، لیکن میں بہت ضد میں آگئی۔
یہاں ایک بات بتاتی چلوں کہ اتنی ضد کی وجہ کیا تھی؛ میں نے اس نمبر پر کال کی تو اتفاق سے اس کے بھائی نے کال اٹھائی، میں نے اسے سب بتایا تو اس نے بہن سے سم لے لی۔ میرے شوہر رات میں جا کر اسے سم دے آئے کیونکہ وہ اسی علاقے کی لڑکی تھی۔ یہ ساری کہانی تین دن کے درمیان ہوئی ہے (اتوار، پیر اور آج منگل)۔ خیر میں نے کہا کہ یا اسے رکھو یا مجھے، یا پھر اس پیپر پر سائن کرو۔ وہ کہتے رہے کہ میں نہیں کروں گا، میں اسے بلاک کر رہا ہوں وغیرہ، پر میری ضد وہی رہی۔ انہوں نے غصے میں آ کر تین سائن کر دیے، اس کے بعد وہ میرے پاؤں پکڑ کر روتے رہے اور جیسے میرے اوپر بھی کوئی جن تھا وہ اتر گیا۔ میں بھی دھاڑیں مار کر رونے لگی۔ اب سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ طلاق ہوگئی یا نہیں؟ اب وہ مان نہیں رہے، کہتے ہیں کہ ایسے طلاق نہیں ہوتی اور انہوں نے پیپر بھی پھاڑ دیا ہے۔ پلیز کوئی صحیح گائیڈ کرنا، مذاق نہیں ہو رہا کیونکہ میری تین بیٹیاں ہیں۔
سائلہ نے طلاق نامہ کی کاپی ارسال نہیں کی کہ جسے دیکھ کر اسی کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر سائلہ نے اسی انداز سے مذکورہ طلاقنامہ بنوایا ہو جیسا کی عموما بنوایا جاتا ہے جس میں شوہر اپنا نام لکھنے کے بعد تحریر کرتا ہے کہ میں مسمی …… مکمل ہوش وحواس میں اپنی بیوی مسماۃ (فلانہ) کو طلاق دیتا ہوں وغیرہ اور پھر سائلہ کے شوہر نے سائلہ کی شدید اصرار پر تین طلاقوں پرمشتمل اس طلاق نامہ پر دستخط کردیے ہوں تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت ِمغلظہ ثابت ہوچکی ہے اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت عدت کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّامِ عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرےمسلمان سے اپنا عقدِ نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر شوہر کا پہلے انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد ِنکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ، تاکہ وہ زوجِ اول کے لئے دوبارہ حلال ہوجائے ، مکروہِ تحریمی ہے اور اس پر احادیثِ مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
قال الله تعالى : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الخ ( سورة البقرة ، الأية : 230)
و في صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك الخ ( باب شهادة المختبي ، ج 2 ، ص 1243 ، رقم : 2639 ، ط : البشرى )–
و في الفتاوى الهندية : وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو. ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة الخ ( الفصل السادس في الطلاق بالكتابة ، ج 2 ، ص 255 ، ط : رشيدية )–
و في بدائع الصنائع : و أما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك ، و زوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر ؛ لقوله عز وجل فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ ( فصل وأما حكم البائن ، ج 3 ، 187 ، ط : سعيد )-