کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بھائی نے غصے میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہیں،ان کی شادی کو چھ سال ہوگئے ہیں،میرے بھائی کو بہت تنگ کرتی ہے، اب اس صورت حال میں اگر دونوں رجوع کرنا چاہیں تو ہوسکتاہے یا نہیں؟
سائلہ نے اپنے بھائی کے طلاق دیتے وقت بولے گئے الفاظ کا ذکر نہیں کیا، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ،تاہم سائلہ کے بھائی نے اگر واقعۃ صریح الفاظ یعنی میں نے تمہیں طلاق دی یا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں کے ساتھ اپنی بیوی کوتین بار طلاق کا جملہ بول دیا ہو تو اس سے سائلہ کی بھابھی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اورحلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا, لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ کار ہونگے ،جبکہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
کما فی الھندیۃ:وإذا قال لإمرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً و إن کانت غیر مدخولۃ طلقت واحدۃ و کذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق اھ۔( الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ،ج :۱ ،ص :۳۵۵ ،ط: ماجدیہ)۔
و فیہ ایضا: (وَأَمَّا حُكْمُهُ) فَوُقُوعُ الْفُرْقَةِ بِانْقِضَاءِ الْعِدَّةِ فِي الرَّجْعِيِّ وَبِدُونِهِ فِي الْبَائِنِ كَذَا فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ. وَزَوَالُ حِلِّ الْمُنَاكَحَةِ مَتَى تَمَّ ثَلَاثًا كَذَا فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ.( الباب الاول فی تفسیر الطلاق ،ج :۱ ،ص :348 ،ط: دار الکتب العلمیۃ)
و فیہ ایضاً: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا اھ۔ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ،ج :۱ ،ص :۴۷۳ ،ط: ماجدیہ) ۔