کیا فرماتےہیں علماءکرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میری اپنےشوہرسےلڑائی ہوئی،اس میں انہوں نےمجھے کہاکہ" اب تمہیں طلاق ہے"۔پھربھی ہم میاں بیوی کی طرح رہتےرہیں۔
اس کے بعددوسرےموقع پر،میرےشوہرسےمیری ان کےدوست کےپیچھےلڑائی ہوئی اور انہوں نےکہاٹھیک ہے،میں اس سےزندگی میں دوبارہ نہیں ملونگا،میرےشوہرنے کہا جس وقت زندگی میں تم لڑی مجھ سےیاکسی بھی چیزپرلڑائی کی تو تمہیں تین طلاق ہے۔میرےشوہرنےاپنےدوست کونہیں چھوڑا اور نہ میری اس سے لڑائی ہوئی۔
اب معلوم یہ کرناہےکہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں یاآئندہ واقع ہونگی؟ جوبھی شرعی حکم ہو،تحریرفرمائیں اور اگر ان تین طلاق سے بچنےکاکوئی طریقہ ہوتووہ بھی بتادیں۔
صورت مسئولہ میں اگرسائلہ کے شوہر نے پہلی مرتبہ سائلہ کو صریح الفاظ میں مذکور جملہ "اب تمہیں طلاق ہے "کہاہو، تو اس سے سائلہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی تھی،اس کے بعدسائلہ اوراس کے شوہرکے میاں بیوی کی حیثیت سے رہنے کی وجہ سے رجوع ہوگیاتھااوران کاساتھ رہناشرعاًجائزتھا اورسائلہ کے شوہرکے پاس آئندہ کے لیے فقط دوطلاق کااختیارباقی تھا،اس کےبعدمذکور واقعےمیں سائلہ کےشوہر نے اگر ا سے یہ الفاظ کہےہوں کہ ”جس وقت زندگی میں تم لڑی مجھ سےیاکسی بھی چیزپرلڑائی کی تو تمہیں تین طلاق ہے “تو اس سے تین طلاق معلق ہو چکی ہے، لہذا اب اگر سائلہ اپنے شوہرسےلڑی یاکسی بھی بات پرجھگڑاکیا ،تو اس سے اس پر معلق تینوں طلاقوں میں سےسابقہ ایک طلاق کے ساتھ مزید دو طلاقیں ملکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جائے گی ، اس صورت میں نہ تو رجوع ہو سکے گا ، اور نہ ہی بغیر حلالۂ شرعیہ کےدوبارہ عقدِ نکاح ہو سکے گا، اس لئے سائلہ کواپنے شوہرسےہرقسم کےاختلافات اورلڑائی جھگڑےسے احتر از کر نا چاہیے ۔
تاہم اگر سائلہ یہ چاہتی ہو کہ کبھی ان کےآپس میں لڑنےسے اس پر مذکورمعلق تین طلاقیں واقع نہ ہو ں تو اسکے لئے یہ تدبیر اختیار کی جاسکتی ہے کہ سائلہ کاشوہرسائلہ کو ایک طلاقِ بائن د یدے اور عدت کے اختتام تک سائلہ اپنے شوہرسےہر قسم کے اختلاف اورلڑائی سےاجتناب کرے ، جب عدت گزر جائے تو سائلہ اپنےشوہرسےلڑائی جھگڑےکاارتکاب کرلے ، اس وقت چونکہ سائلہ اپنے شوہرکے نکاح میں نہیں ہو گی، تو لڑنےجھگڑنےسے کوئی طلاق بھی واقع نہ ہوگی، اور شرط بھی پوری ہو جائے گی۔ اس کے بعددونوں آپس میں گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرلیں،پھرسائلہ کا اپنے شوہر سے لڑنے سےاس پر مزید کوئی طلاق واقع نہ ہو گی ، تاہم اس کے بعد سائلہ کےشوہر کوصرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہے گا، اس لئے طلاق کے معاملے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔
کمافی الفتاویٰ الھندیۃ: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق،الخ(الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ج: 1، ص: 420، مط: ماجدیۃ)
وفی بدائع الصنائع: وأما حكم هذه اليمين فحكمها واحد وهو وقوع الطلاق أو العتاق المعلق عند وجود الشرط فتبين أن حكم هذه اليمين وقوع الطلاق والعتاق المعلق بالشرط،(الی قولہ) ثم الشرط إن كان شيئا واحدا يقع الطلاق عند وجوده بأن قال لامرأته إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو أنت طالق إن دخلت هذه الدار يستوي فيه تقديم الشرط في الذكر وتأخيره وسواء كان الشرط معينا أو مبهما بأن قال إن دخلت هذه الدار أو هذه فأنت طالق أو قال أنت طالق إن دخلت هذه الدار أو هذه وكذلك إذا كان وسط الجزاء بأن قال إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو هذه الدار لأن كلمة أو ههنا تقتضي التخيير فصار كل فعل على حياله شرطا فأيهما وجد وقع الطلاق، وكذلك لو أعاد الفعل مع آخر بأن قال إن دخلت هذه الدار أو دخلت هذه سواء أخر الشرط أو قدمه أو وسطه.الخ(فصل في حكم اليمين التي تعلق بها الطلاق والعتاق عند وجود الشرط، ج: 3، ص: 30، مط: سعید)
وفي الدر المختار: (وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها۔الخ(باب التعليق، ج: 3، 355، مط: ایچ ایم سعیدکراچی)
وفی الھدایۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها " والأصل فيه قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} [البقرة: 230](فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج:2، ص:399، مط:شرکت علمیۃ ملتان)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0