السلام علیکم مفتی صاحب،
مجھے اپنے نکاح کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔ میرا مسئلہ یہ ہے:
میری شادی 20/03/2014 کو ہوئی تھی۔
13/05/2026 کو میں غصے میں تھا۔ غصے کی حالت میں،میں نے اپنی بیوی کو دو مرتبہ زبانی کہا: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"۔
اسی وقت میں نے ایک کاغذ پر بھی لکھ دیا: "میرا تم سے کوئی تعلق نہیں"۔ یہ بھی میں نے صرف ڈرانے کے لیے لکھا تھا۔
میری نیت طلاق دینے کی بالکل نہیں تھی۔ میرا مقصد صرف بیوی کو ڈرانا تھا تاکہ جوغلط فہمی ہےاسےدور کرےاور کسی غلط تعلق سے بچے۔ میں اپنے 4 بچوں عمر 11، 9، 4، 2 سال سے ان کی ماں کو جدا نہیں کرنا چاہتا۔
یہ سب کچھ غصے میں ہوا، میں غصے میں پاگل سا ہو گیا تھا۔
میرے سوالات یہ ہیں:
1۔ کیا اس صورت میں شرعی طور پر طلاق واقع ہو گئی ہے؟
2۔ اگر طلاق واقع ہو گئی ہے تو کیا میں عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہوں؟ رجوع کا طریقہ کیا ہوگا؟
3۔ اگر طلاق واقع نہیں ہوئی تو کیا اب ہمارا نکاح قائم ہے؟۔
اس عمل پرفتویٰ کی درخواست دی ہے اس کا جواب بھی ان حالات کو سامنے رکھ کر دیں
فتویٰ نمبر 144711102220
جزاکم اللہ خیرا
صورتِ مسئولہ میں سائل نے مورخہ 13/05/2026 کو غصے کی حالت میں جب اپنی بیوی کو دو مرتبہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ کہا، تو اس سے سائل کی بیوی پر دو طلاقِ رجعی واقع ہوگئی ہیں۔ البتہ اسی موقع پر اگر سائل نے کاغذ پر فقط یہ جملہ لکھا ہو کہ ’’میرا تم سے کوئی تعلق نہیں‘‘، اس کے علاوہ سائل نے طلاق کے مزید الفاظ نہ لکھے ہوں، اور مذکورہ جملے سے سائل کے بیان کے مطابق طلاق کی نیت بھی نہ ہو، تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر مجموعی طور پر دو طلاقِ رجعی واقع ہوئی ہیں۔جن کا حکم یہ ہے کہ سائل کو عدت (یعنی تین ماہواریاں، یا بیوی کے حاملہ ہونے کی صورت میں بچے کی پیدائش)کے دوران رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔ چنانچہ سائل نے اگر قولاً یا فعلاً عدت میں رجوع کرلیا تو دونوں میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا۔ البتہ اگر عدت کے اندر رجوع نہ کیا تو عدت گزرنے سے نکاح ختم ہوجائے گا، پھر باہمی رضامندی سے نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کرنا لازم ہوگا۔بہرحال دونوں صورتوں میں آئندہ سائل کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار رہے گا، اس لیے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔
کما فی الدرالمختار: (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب،الخ. ( 3/296 باب الکنایات ط سعید)
وفیہ أیضاً: (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا الخ. (3/301 باب الکنایات ط سعید)
وفی الهندية: لو قال لها لا نكاح بيني وبينك أو قال لم يبق بيني وبينك نكاح يقع الطلاق إذا نوى. (2/1، ط: دار الفكر)