السلام علیکم! میرے شوہر کمرے میں آئے اور وہ اپنی مرضی سے شراب پی کر نشے میں تھے۔ ہماری آپس میں بحث ہوئی۔ انہوں نے مجھ پر بددیانتی کا الزام لگایا اور کہا کہ میں کسی شخص سے ملی ہوں، حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ پھر انہوں نے کہا: ’’میری طرف سے تم فارغ ہو، اپنا بیگ نکالو، میں تمہیں تمہارے بھائی کے گھر چھوڑ آتا ہوں۔‘‘ اس سے پہلے انہوں نے مجھے مارا بھی تھا۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ میرے شوہر باقاعدگی سے شراب پیتے ہیں۔ مجھے ان کی نیت کا درست علم نہیں، تاہم بحث سے پہلے وہ واضح طور پر یہ کہہ چکے تھے کہ ’’مجھ سے طلاق لے لو تاکہ ہم الگ ہو کر سکون سے رہ سکیں۔‘‘براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔ ہماری تین سالہ شادی کے دوران وہ اس قسم کے جملے کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں۔
سائلہ نے اس بات کی مکمل وضاحت نہیں کی کہ ماضی میں اس کے شوہر نے اسے کیا الفاظ، کس موقع پر اور کس نیت سے کہے تھے، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا۔ تاہم ’’میری طرف سے تم فارغ ہو‘‘ کا جملہ عند القرینہ طلاقِ بائن کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور اس سے طلاقِ بائن واقع ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوجاتا ہے۔ البتہ سائلہ نے چونکہ ماضی میں اس کے شوہر کی طرف سے کہے جانے والے الفاظ اور اس کے بعد دونوں کے درمیان رجوع یا نکاح ہوجانے کے متعلق کوئی تفصیل ذکر نہیں کی، اس لیے پوری تفصیل کے بغیر کوئی حتمی حکم بیان نہیں کیا جاسکتا۔