السلام علیکم
میرا ایک شرعی مسئلہ ہے، براہِ کرم قرآن و سنت اور اہلِ سنت والجماعت کے مطابق رہنمائی فرما دیں۔
ایک شوہر کو اپنی بیوی پر شک تھا اور کچھ باتیں ایسی تھیں جن کی وجہ سے وہ غصے اور ذہنی دباؤ میں تھا۔ اس نے بیوی کو ڈرانے اور روکنے کے لیے پہلے یہ کہا کہ:
“باز آجاؤ ورنہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا”
پھر غصے میں اس نے یہ الفاظ بھی کہے:
“میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میری طرف سے تم فارغ ہو، اپنے بھائی کو بلا لو اور دفع ہو جاؤ”
شوہر کا کہنا ہے کہ اس کی نیت صرف ڈرانا تھی، گھر توڑنا یا حقیقتاً طلاق دینا مقصود نہیں تھا۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں:
کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوگئی؟
اگر ہوئی تو ایک طلاق ہوئی یا زیادہ؟
رجوع کی کیا صورت ہے؟
کیا نکاح برقرار ہے؟
جزاکم اللہ خیراً
واضح ہوکہ اگر کوئی شخص طلاق کے صریح الفاظ جیسے "تجھے طلاق ہے ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " کے الفاظ اپنی بیوی کو بول دے اگرچہ طلاق کی نیت نہ کی ہو تب بھی محض ان الفاظ سے اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی اسی طرح "فارغ "کے لفظ سے بھی قرائن کی روشنی میں طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے ۔ لہذا صورت مسئولہ میں "باز آجاؤ ورنہ میں تمہیں طلاق دے دوں گا " کہنے سے تو مذکور شخص کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی تاہم اس کے بعد اگر شوہر نے واقعۃً غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "“میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میری طرف سے تم فارغ ہو، اپنے بھائی کو بلا لو اور دفع ہو جاؤ" کہہ دیئے تو اس سے اس کی بیوی پر دوطلاق بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے جبکہ بعد والا لفظ "دفع ہو جاؤ " بائن کا بائن کے ساتھ لاحق نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوا ، اب رجوع نہیں ہوسکتا ۔جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ، البتہ اگر دونوں دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو اس کے لئے باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کے ذریعے تجدید نکاح لازم ہوگا ۔
کما فی الدرالمختار مع رد المحتار: (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) ۔۔۔۔۔ (قوله ولو بالفارسية) فما لا يستعمل فيها إلا في الطلاق فهو صريح يقع بلا نية (ج3 ص: 247 باب صریح الطلاق ط: دار الفكر-بيروت)
وفی الشامیۃ: ثم قال: وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة (ج3 ص:306 باب الکنایات ط: دار الفكر-بيروت)
وفی المبسوط للسرخسي : قال: ولو قال أنت مني بائن أو بتة أو خلية أو برية فإن لم ينو الطلاق لا يقع الطلاق لأنه تكلم بكلام محتمل (ج6 ص: 130 ط:دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت، لبنان)
وفی الدرالمختار: "الكنايات ( لاتطلق بها )قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب." (ج:3، ص: 296 ،297 باب الكنايات،ط: سعید)