شوہر کا بیوی سے کسی بات پہ جھگڑا ہوا ہے جس میں شوہر نے سخت غصے میں بیوی کو بول دیا کہ تم مجھ پہ حرام ہو۔۔ اسی وقت لڑکی نے کہا کہ حرام کیا ہے ؟دینی ہے تو طلاق دو لڑکے نے بولا طلاق نہیں دوں گا۔۔۔ لڑکی نے جب لفظ حرام پہ غور کیا ، نیٹ پہ دیکھا تو الگ الگ نتائج تھے ، اس نے واپس شوہر کو تفصیل بتائی تو دونوں بہت پریشان ہیں۔شوہر کا کہنا ہے کہ میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا تھا میرا مطلب تھا کہ ناراض ہوں بس۔۔۔۔
اب وہ دونوں بہت پریشان اور شرمندہ ہیں اور تعلق رکھنے کیلئے رہنمائی چاہتے ہیں۔۔۔لڑکے کا کہنا ہے کہ میرے ذہن میں طلاق کی کوئی سوچ نہیں تھی اور بیوی خاوند دونوں ساتھ رہنا چاہتے ہیں، خاوند باہر ملک میں ہے، اسکا کیا حل ہوگا ،دوبارہ نکاح یا کفارہ؟ پلیز رہنمائی فرما لیں۔
واضح ہو کہ لفظ حرام عرف میں طلاق کیلئے ہی استعمال ہوتا ہے اور اس سے بلا نیت بھی طلاق واقع ہوجا تی ہے، لہذا صورت مسؤلہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " تم مجھ پر حرام ہو "کہہ دیئےتو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو گئی اور دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا، تاہم اگر میاں بیوی اب بھی ازدواجی حیثیت سے ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو اس کیلئےباقاعدہ دو گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باضابطہ ایجا ب وقبول کر تے ہوئے تجدید نکاح لازم ہوگا، تاہم اس کے بعد آئندہ کیلئے شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا ، اس لیے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے۔
کمافی الشامیۃ :وإن كان الحرام في الأصل كناية يقع بهاالبائن لأنه لماغلب استعماله في الطلاق لم يبق كناية، ولذالم يتوقف على النية أودلالة الحال اھ (3/299)۔
وفیہ ایضااذا نوی ھذا القید جار فی انت حرام علی اصل المذہب اما الفتوی فیقع بلانیۃ کما یاتی فی الایلاء (ج:3 ص؛273 ناشر سعید )
وفی البحر الرائق : لو قال لها أنت علي حرام، والحرام عنده طلاق وقع، وإن لم ينو، وذكر الإمام ظهير الدين لا نقول لا تشترط النية ولكن نجعله ناويا عرفااھ ( ج: 3 ص :324 ناشر ماجدیہ)