السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہوا کچھ یوں کہ زید اور اس کی بیوی کا جھگڑا تھا تو بیوی نے کہا کہ میں ماں کے ہاں جا رہی ہوں ، زید نے کہا اگر آپ اپنے ماں باپ کے گھر جاؤ گی تو میں آپ کو طلاق کے پیپر بھجوا دوں گا تو بیوی نے کہا اُدھر کیوں بھجوا رہے ہو ابھی ادھر طلاق دو، زید نے صرف یہ کہا کہ طلاق طلاق طلاق تو کیا یہ طلاق واقع ہو گئی ہیں یا نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں درجِ بالاالفاظ کہتے وقت اگرچہ زید نے ظاہراً بیوی کا نام نہیں لیا اور نہ ہی اس کی طرف نسبت کی ہے ، لیکن چونکہ زید کی مخاطب اس کی بیوی ہی تھی اور اس کے مطالبہ طلاق پر ہی اس نے مذکور الفاظ کہے، لہٰذا یہ الفاظ کہتے وقت معنوی نسبت موجود ہونے کی وجہ سے زید کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح شرعاً درست ہے، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی شرعاً آزاد ہے۔
کما فی ردالمحتار: تحت قولہ : ( لترکہ الاضافۃ ) ولا یلزم کون الاضافۃ صریحۃ فی کلامہ ، لما فی البحر لو قال طالق فقیل لہ من عنیت ؟ فقال امراتی طلقت امراتہ اھ( باب الصریح،ج:3،ص:248،ط:سعید)
وفی الھندیۃ: متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق اھ(کتاب الطلاق،الباب الثانی، الفصل الاول فی الطلاق الصریح،ج :1،ص: 356،ط:ماجدیہ)
وفی بدائع الصنائع : وحال الغضب ومذاكرة الطلاق دليل إرادة الطلاق ظاهرًا فلايصدق في الصرف عن الظاهر اھ(كتاب الطلاق،ج:3، ص: 102، ط:سعید)