کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکی کا نکاح ہوا ،رخصتی نہیں ہوئی،شوہر نے گھر بیٹھے ہی طلاق دیدی ہے،تو کیا شریعت کے مطابق طلاق ہوجاتی ہے،اور طلاق دو دفعہ لکھ کر اور تین بار منہ سے بول چکا ہے،نکاح کو چار سال ہوگئے ہیں،اور اس بات کو تقریبا ایک سال ہوگیا ہے۔
تنقیح : سوال میں مذکور میاں بیوی کے درمیان نکاح کے بعد کبھی ہمبستری یا خلوت صحیحہ ہوئی ہے یا نہیں؟اور شوہر نے طلاق کن الفاظ کے ساتھ دی ہے ؟اس کی وضاحت کریں تو اس پر غور کے بعد جواب دیاجاسکتاہے۔
جواب تنقیح:شوہر نے واضح الفاظ میں اپنا،اپنے والد ،لڑکی اور اس کے والد کا نام لے کرتین بار "طلاق دیتاہو ں"بولا تھا، اور ساتھ میں یہ بھی بولا کہ "ہوش و حواس میں طلاق دیتاہوں،میاں بیوی کے درمیان کوئی ہمبستری یا ملاقات نہیں ہوئی"،جبکہ اب وہ لڑکا مان نہیں رہا۔
سائل کا بیان اگر واقعۃََ درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، تو شوہر کے پہلی دفعہ طلاق کے الفاظ تحریر کرنے یا زبانی طور پر بولنے سے ہی اس کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر میاں بیوی کا نکاح ختم ہو گیااور بقیہ الفاظ طلاق محل باقی نہ رہنے کی وجہ سے لغو ہوگئے تھے،اس صورت میں عورت پر عدت بھی لازم نہیں،لہذا فی الفور وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ، البتہ شوہر پرطے شدہ حق مہر کا نصف ادا کرنا شرعا لازم ہے، تاہم اب اگر دونوں دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں،البتہ شوہر کو آئندہ کیلئے صرف دوطلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، اس لئے طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط لازم ہے۔
كمافي الدر المختار: (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالاولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل(باب طلاق غير المدخول بها،ج:٣،ص:٢٨٦،مط:سعيد)
و في رد المحتارتحت: (قوله وإن فرق بوصف) نحو أنت طالق واحدة وواحدة وواحدة، أو خبر نحو: أنت طالق طالق طالق، أو أجمل نحو: أنت طالق أنت طالق أنت طالق ح، ومثله في شرح الملتقى.(الى قوله) قوله لم تقع الثانية) المراد بها ما بعد الأولى، فيشمل الثالثة(باب طلاق غير المدخول بها،ج:٣،ص:٢٨٦،مط:سعيد)
و فی الهنديه: إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق(الفصل الرابع في الطلاق قبل الدخول، ج:١،ص: ٣٧٣، مط: ماجديه)