ایک شخص نےنشہ کی حالت میں اپنی بیوی سے کہا ہے، کہ "اگر تم اپنے بہن بھائیوں سے رابطہ رکھوگی تو تم پر تین طلاق" سسرال والوں سے وقتی ناراضگی کی وجہ سے یہ مسئلہ پیش آیا ہے، بیوی نے اپنے بہن بھائیوں سے رابطہ نہیں کیا، لیکن بیوی کی بہن جس کہ علم میں یہ بات نہیں تھی، وہ ان کے گھر آگئی، لیکن بہن نے اسے منع کردیا کہ تم کیوں آئی ہو چلی جاؤ، میرے ساتھ یہ مسئلہ ہے، تو وہ واپس چلی گئی، اب کیا طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟ یا پھر اس کا کوئی حل ہے، حالانکہ میاں بیوی آپس میں ٹھیک خوش ہیں، اب اس شخص کو ندامت بھی ہے، کیا طلاق ہوگئی ہے؟ یا کوئی کفارہ وغیرہ سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے؟اس معاملے کے وقت لڑکی کا ایک بھائی پاس موجود تھا، تو بیوی نے کہا یہ بھی تو میرا بھائی ہے، تو اس شخص نے کہا اس کے ساتھ میرے اور معاملات ہے؟ یہ میری جان ہے، ان دونوں کے آپسی تعلقات بھی بہت اچھے ہیں، اور گہرے بھی،(رشتہ میں لڑکی کا بھائی لڑکے کا بہنوئی بھی ہے) جو موجود تھا، یہ رشتہ ختم تو نہیں ہوگا اگر دوبارہ رابطہ ہوا؟ یا کس صورت میں ملنا جائز ہوگا، کیا شوہر کی اجازت سے مل سکتی ہے یا نہیں؟ یا پھر اسکا کوئی اور حل ہے؟
صورت مسؤلہ میں شوہر نے تین طلاقوں کو بیوی کا اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ رابطہ رکھنے پر معلق کیا ہے، یعنی رابطہ کی نسبت بیوی کی طرف کی ہے، لہذا اگر بیوی از خودپہل کرکے بہن بھائیوں میں سے کسی سے رابطہ رکھے گی تو تین طلاقیں ہوجائیں گی، چونکہ بہن خود ملنے آئی تھی بیوی نے اس کو واپس بھیج دیا، اس لئے بہن کے آنے کی وجہ سے (بشمول اس بھائی کے جو موقع پر موجود تھا) کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، جبکہ شوہر کی اجازت دینے سے طلاق کی تعلیق ختم نہ ہوگی، چنانچہ شوہر کی اجازت کے بعد بھی اگر بیوی اپنے بہن بھائیوں سے بات کرے گی، تو اس پر معلق طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
تین طلاق سے بچنے کا یہ حیلہ ہوسکتا ہے ، کہ شوہر اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن دے اور دوران عدت بیوی اپنے بہن بھائیوں سے کسی سے ہرگز بات نہ کرے، پھر جب بیوی کی عدت ختم ہوجائے، (یعنی تین ماہواریان گزر جائیں یا اگر حاملہ ہو تو بچے کی پیدائش ہوجائے) تو وہ اپنے بہن بھائیوں میں سے کسی سے رابطہ کرلے، ایسا کرنے سے یہ شرط ختم ہوجائے گی، اور اس وقت وہ اپنے شوہر کے نکاح میں نہیں ہوگی، اس لئے معلق طلاقیں بھی واقع نہیں ہوگی، پھر میاں بیوی باہمی رضامندی سے نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرلیں، اس کے بعد بہن بھائیوں سے رابطہ رکھنے سے بیوی پر مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، تاہم آئندہ کے لئے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا،اس لئے آئندہ کے لئے احتیاط لازمی ہے۔
کما فی العنایہ: وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق) وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال، والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط لأن الأصل بقاء الشيء على ما كان وهو استصحاب الحال ( باب الایمان فی الطلاق، ج: 4، ص: 112، ط: دارالفکر بیروت)
و فی الدر المختار: فحیلۃ من علق الثلاث بدخول الدار ان یطلقھا واحدۃ ثم بعد العدۃ تدخلھا فتنحل الیمین فینکحھا اھ (کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج: 3، ص: 355، ط: سعید)
وفی الھندیہ: وزوال الملك بعد اليمين بأن طلقها واحدة أو ثنتين لا يبطلها فإن وجد الشرط في الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فدخلت وهي امرأته وقع الطلاق ولم تبق اليمين وإن وجد في غير الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فطلقها قبل وجود الشرط ومضت العدة ثم دخلت الدار تنحل اليمين ولم يقع شيء كذا في الكافي اھ (کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط ونحوہ، ج: 1، ص: 416، ط: الکبری الامیریہ)
وفی بدائع الصنائع: قال هشام: قلت لمحمد فما تقول إذا حلف لا يقرأ لفلان كتابا فنظر في كتابه حتى أتى آخره وفهمه ولم ينطق به؟ قال: سأل هارون أبا يوسف عن ذلك وقد كان ابتلي بشيء منه فقال لا يحنث اھ (فصل فی الاظھار فی الایمان، ج: 3، ص: 55، ط: سعید)