السلام علیکم، میرا نام فرح ہے۔ میری ایک سال پہلے شادی ہوئی ہے۔ میرے اور میرے شوہر کے درمیان اکثر لڑائی ہوتی رہتی ہے، یا یوں کہہ لیں کہ ہماری آپس میں زیادہ بنتی نہیں۔ بہت بار غصے میں میرے شوہر نے کہا کہ “میں تمہیں چھوڑ دوں گا” اور میں نے بھی غصے میں کئی بار کہا کہ “ہاں چھوڑ دو، دے دو مجھے طلاق”، لیکن پھر صلح ہو جاتی تھی اور ہم دونوں ایک دوسرے سے معافی بھی مانگ لیتے تھے۔
لیکن پھر کوئی نہ کوئی بات ایسی ہو جاتی ہے کہ لڑائی کے دوران دوبارہ یہی سب ہونے لگتا ہے۔ آخری بار انہوں نے مجھے کہا: “ٹھیک ہے، میں تمہیں طلاق دے دیتا ہوں۔” یہ جملہ انہوں نے دو بار بولا۔ تو کیا یہ دو طلاق شمار ہوں گی یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر نے واقعۃً یہی الفاظ کہے تھے: ’’ٹھیک ہے، میں تمہیں طلاق دے دیتا ہوں‘‘، تو یہ الفاظ چونکہ عرف میں مستقبل میں طلاق دینے کے وعدے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، لہٰذا مذکورہ الفاظ سے سائلہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ سائلہ کا اپنے شوہر کے ساتھ نکاح بدستور برقرار ہے، اور دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرسکتے ہیں۔
كما في الدر المختار: (ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح الخ
وفي رد المحتار تحت: (قوله وما بمعناها من الصريح) أي مثل ما سيذكره من نحو: كوني طالقا واطلقي ويا مطلقة بالتشديد، وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر الخ (باب الصریح، ج: 3، ص: 248، ط: ایچ ایم سعید)
وفی تنقیح الحامدیۃ: صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام الخ( كتاب الطلاق ج:1 ،ص:38، ط: حقانیہ)