کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ کچھ گھریلو مسائل کی وجہ سے میری بہنوئی محمد ۔۔۔نے مختلف مواقع پر میری بہن مسماة۔۔۔۔ کو تحریری طور پر طلاقىں دی ہیں، ہر طلق کے بعد صلح ہو کر رجوع بھی کر چکے ہیں، اب اخری طلق کا پىپر 30-4-026 کو تحریری طور پر دی ہے، جس میں لکھا ہے کہ میں ۔۔۔کو "تىسرى اخری اور حتمی طلاق دیتا ہوں" اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنے طلاقیں واقع ہوئیں؟ اور اب آئندہ ان کے لیے کیا حکم ہے؟
نوٹ: 2012 کے پیپر میں لکھا ہے "اب میں۔۔۔۔د کو طلاق دیتا ہوں" 2015 کے پیپر میں لکھا ہے" میں محمد ۔۔۔ میری بیوی۔۔۔۔خاتون کو طلاق دیتا ہوں"۔
صورت مسئولہ میں جب سائل کے بہنوئى نے سائل كى بہن كو مختلف اوقات مىں واضح الفاظ كے ساتھ تحریری طور پر دو طلاق دىنے كے بعد دوران عدت رجوع كرلىا تھا تو اس كے بعد دونوں كا نكاح بحال ہو چكا تھا، لىكن اس كے پاس فقط اىك طلاق كا اختىار باقى تھا،لىكن 2025 مىں جب منسلکہ طلاق نامہ کے ذریعہ تحریری طور پر تىسرى طلاق بھى ان الفاظ "میں روبینہ کو تىسرى آخری اور حتمی طلاق دیتا ہوں" كے ساتھ دىدى، تو اس سے سائل كى بہن پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شریعہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ہے، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگى۔
كما في القران الكريم: ﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ﴾ [سورة البقرة: ٢٣٠]
وفي صحيح البخاري: عن عائشة رضي الله عنها، «أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي ﷺ: أتحل للأول؟ قال: لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول. اهـ [كتاب الطلاق، باب من أجاز طلاق الثلاث، رقم الحديث (٥٢٦١) ج:٧ ص: ٤٣ ط: بالمطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر المحمية]
وفي رد المحتار: (قوله: كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب، (إلى قوله) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو اهـ [كتاب الطلاق، مطلب في الطلاق بالكتابة، فروع، ج:٣ ص:٢٤٦ ط: ايچ ايم سعيد)]
وفي الفتاوى الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير. اهـ [الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:١ ص: ٤٧٣ ط: رشيدية]