السلام علیکم، میرا مسلہ یہ ہے میرے شوہر نے مجھے اپنی بہن کی وجہ سے گھر سے نکال دیاتھا بچے ٦ مہنے میرے پاس تھے میرے 3 بچے ہے اب 3 مہنے سے بچے میرےشوہر کے پاس ہے میں نے بہت بار شوہر سے گھر جانے کا بولا اور غلطی تھی ہی نہیں ، معافی بھی بہت مانگی، لیکن میرے شوہر نے اب مجھے ایک طلاق دے دی ہے لیکن بولتا ہے رجو ع تب کرے گا جب میرا بھائی اسکی ہر بات مانے گا میرا بھائی اسکی بہن کا شوہر بھی ہے مطلب اس نے طلاق صرف میرے بھائی کو تنگ کرنے کے لیے اور اپنی بہن کی کچھ باتیں منوانے کے لئے دی ، اس بارے میں اسلام کیا کہتا ہے کیا مجھے طلاق دینے سے وه گنہگار ہوا ہے کیونکہ میں گھر جانا چا ہتی ہوں ، کوئی ڈیمانڈ بھی نہیں میری، کیا اسلام شوہر کو ہر طرح سے بیوی پر زیاتی کا حق دیتا ہے ؟
صورت مسئولہ میں سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی یا دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، بایں معنی کہ سائلہ کے شوہر نے محض اپنی بہن کے معاملہ کی وجہ سے، بلا کسی معقول وجہ کے سائلہ کو (واضح اور صریح الفاظ (جیسے تجھے طلاق دیتا ہوں ) کے ذریعہ ایک طلاق دی ہو، تو اس کا یہ طرزِ عمل اگرچہ شرعاً و اخلاقاً درست نہیں، بلکہ اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوا ہے جس پر اسے صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔تاہم ان الفاظ سے سائلہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے اور دوران عدت اسے رجوع کا اختیار ہے لیکن اگر وہ عدت کے دوران رجوع نہیں کرتا تو عدت مکمل ہونے کی صورت میں دونوں کا نکاح ختم ہوجائے گا اور ان دونوں کا ساتھ رہنے کے لئے تجدید نکاح ضروری ہوگا ،لیکن آئندہ کے لئے شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار رہے گا ۔
لہذا اگر سائلہ کی طرف سے کوئی غلطی نہیں ہوئی اور وہ اس کے باوجود بھی معافی طلب کررہی ہے اور ازدواجی زندگی کو برقرار رکھنے کی خواہش مند ہے تو ایسی صورت میں سائلہ کے شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی شرعی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اپنی بیوی سے رجوع کرکے اپنے گھر کو بسانے کی فکر کرے، اور اپنے خاندانی تنازعات یا اپنی بہن کے معاملات کی وجہ سے اپنے اس رشتہ کو
کراب کرنے سے اجتناب کرے ۔
قال اللہ تبارک وتعالیٰ: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ الآیۃ (النساء:19)
وفی الجامع الصحيح سنن الترمذي : عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي (ج5 ص: 709)
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار):(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة)" (3/ 397)