کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا اور میری بیوی کا اختلاف ہوا، اور یہ لڑائی شدت اختیار کرگئی تھی(یعنی وہ طلاق کا مطالبہ کرنے لگی،اور اسی ماہ کی گیارہ تاریخ کو ہم ایک مدرسہ میں گئے،اور انہوں نے ہماری دونوں کی بات سنی،اور میری بیوی سے پوچھا، تو میری بیوی نے کہاکہ مجھے طلاق چاہیے،میں شوہر کےساتھ نہیں رہنا چاہتی ،اور مجھے اس سے کچھ بھی نہیں چاہیے،تو مذکور مولانا صاحب نے مجھے کہا کہ آپ ان کو ایک طلاق رجعی دےدیں،آپ کےپاس پھر بھی دو طلاقوں کا اختیار ہوگا،آخر کار میں نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہ ”میں تمہیں طلاق دیتاہوں“ صرف ایک بار کہا،اور میری اور بیوی کی بات چیت بھی ہوتی ہے،اور ہم دونوں ایک دوسرے سے رجوع کرنا چاہتے ہیں،تو معلوم یہ کرناہےکہ اس طلاق سے رجوع کا کیا طریقہ کارہوگا؟،قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
سوال میں ذکرکردہ تفصیل کےمطابق اگرسائل نے واقعۃاپنی بیوی کومذکور صریح الفاظ ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں “ سےصرف ایک دفعہ بولے ہوں تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ سائل کو دورانِ عدت( حمل نہ ہونے کی صورت میں تین ماہواریاں اور بصورت حمل بچہ /بچی کی ولادت تک دورانیہ میں) اپنی بیوی سے رجوع کا حق حاصل ہے، جبکہ رجوع کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ سائل دو گواہوں کے سامنے بیوی سے کہہ دے کہ” میں نے تجھ سے رجوع کر لیا“ یا اگر بیوی موجود نہ ہو تو کہہ دے کہ ”میں نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا“تو اس طرح کہنے سے رجوع مکمل ہو جائے گا ،جس کے بعد سائل اور اس کی بیوی کا میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا جائز ہوگا۔ نیز سائل اگر زبان سے کچھ نہ بولے لیکن دورانِ عدت میاں بیوی والے تعلقات( بوس وکنار یا ہمبستری) قائم کر لے تو اس سے بھی رجوع ہو جائے گا ،تاہم بہتر یہ ہے کہ زبان سے دو گواہوں کی موجودگی میں رجوع کر لیا جائے ۔تاہم اگر دورانِ عدت سائل نے رجوع نہیں کیا اور عدت گزر گئی تو ان رجوع کا حق ختم ہو جائے گا اور طلاق ِرجعی ،طلاقِ بائن بن جائے گی، جس کے بعد اگر سائل اور اس کی مذکورہ مطلقہ بیوی ایک ساتھ میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا چاہیں توباقاعدہ شرعی گواہاں کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرکے تجدیدِ نکاح لازم ہوگا، تاہم اس رجوع یا نکاح کےبعدسائل کے پاس فقط دوطلاقوں کا اختیار رہے گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔
کما فی الھندیۃ:الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة.( ألفاظ الرجعة صريح وكناية) (فالصريح) : راجعتك في حال خطابها أو راجعت امرأتي حال غيبتها وحضورها أيضا ومن الصريح ارتجعتك ورجعتك ورددتك وأمسكتك ومسكتك بمنزلة أمسكتك فهذه يصير مراجعا بها بلا نية.(والكناية) : أنت عندي كما كنت وأنت امرأتي فلا يصير مراجعا إلا بالنية كذا في فتح القدير. اھ(الباب السادس فی الرجعۃ الخ،ج:1،ص:468،ط:ماجدیۃ)
وفیہ ایضا:وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية۔الخ(كتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعة،ج:1،ص:470،ط:رشيديه)
وفی ردالمحتار: (تحت قوله) قلت: ولذا قال في البدائع: أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له نقصان العدد، فأما زوال الملك وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال بل بعد انقضاء العدة، وهذا عندنا. وعند الشافعي زوال حل الوطء اھ(کتاب الطلاق،ج:3،ص:227،ط:سعید)