بخدمت جناب مفتی صاحب ، السلام علیکم
سلام مسنون کے بعد عرض یہ ہے کہ میری بیٹی کی شادی 22 اگست 2020 کو ہوئی تھی ، تب سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر مار پیٹ شروع ہوئی تھی، ساس اور نند کی وجہ سے بہت پریشان تھی ، اس کے بعد ہم اس کو اپنے گھر لے آئے، اس کے بعد میرا داماد اور بیٹی چار سال تک ہمارے گھر ہی رہے، اور بیٹی کا فرنیچر سامان اس کی ساس کے گھر پر تھا، اور ساس سامان دینے کا انکار کرتی رہی ، اور جب بھی بیٹی سامان کا مطالبہ کرتی تو اس کا شوہر اسے مارتا رہتا ، بعد ازاں اس کے شوہر نے الگ گھر لے لیا ، مگر مار پیٹ تب بھی تھم نہ سکی، اور ہر وقت مار پیٹ جاری رہتی ، حد درجہ مار پیٹ کے بعد بیٹی کی برداشت بھی جواب دے گئی ، اور وہ واپس آگئی ، اس کے بعد اس کا شوہر ہمارے گھر آیا ، اور اسے طلاق دے دی ، اس کے بعد پیپر پر دستخط نہیں کیا اور چلا گیا ، باربار کہتا رہا کہ میں کچھ نہیں دوں گا، اگر ہمت ہے تو مجھ سے لیکر دکھاؤ ، بہت دھمکی دے رہا ہے اور بد معاشی پر اتر آیا تھا ، لہذا آپ جناب سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ کا شرعی حل نکالیں ۔
نوٹ: الفاظ طلاق یہ تھے، " دہ سنت رسول مطابق دا عظمیٰ پہ ما طلاقہ دا" سنت رسول کے مطابق یہ عظمیٰ مجھ پر طلاق ہے، یہ جملہ تین مرتبہ بولاتھا۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعۃً سائل کے داماد نے مذکور جملہ " دہ سنت رسول مطابق دا عظمیٰ پہ ما طلاقہ دا" تین مرتبہ کہا ہو تو اس سے سائل کی بیٹی مسماۃ عظمیٰ پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا ہےاور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقد ِنکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ ایام عدت گزرنے کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی احکام القرآن للجصاص : قال أبو بكر: قوله تعالى : ( الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان ) الآية ، يدل على وقوع الثلاث معامع كونه منهياعنها،اھ(ج: ١ ، ص : ٣٨٦ )
وفیہ ایضاً : فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا و إن كانت،معصية، اھ (ج:١، ص: ٣٨٧ )
و فی الھندیۃ : و إذا قال لامرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً اھ (ج:١،ص:٣٥٥،مط: ماجدیۃ)
وفي الدر المختار: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) حتى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) يجامع مثله،(باب الرجعة، ج: ٣، ص: ٤١٠، مط: سعيد)
كما في الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اه (كتاب الطلاق ،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: ١، ص: ٤٧٣، مط: ماجدية )