السلام علیکم جناب!
میں ایک سادہ سا سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ کون سا مکتبِ فکر درست ہے؟ دیوبندی، بریلوی یا وہابی؟
میں نے مختلف مکاتبِ فکر کی کتابیں پڑھی ہیں۔ جب کسی ایک گروہ کی کتابیں پڑھتا ہوں تو وہ درست معلوم ہوتی ہیں، اور جب دوسرے گروہ کی کتابیں پڑھتا ہوں تو ان کی باتیں بھی درست محسوس ہوتی ہیں۔اس وجہ سے میں تذبذب کا شکار ہوں کہ آخر صحیح کون ہے اور غلط کون؟ نیز شریعت میں وہ کون سا معیار (Scale) ہے جس کی بنیاد پر یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ کسی مکتبِ فکر یا رائے کو درست قرار دیا جائے؟
براہِ کرم اس موضوع پر جواب عنایت فرمائیں۔
والسلام
شریعتِ مطہرہ میں حق و باطل کی پہچان کا معیار کسی جماعت یا مکتبِ فکر کا نام نہیں، بلکہ قرآنِ کریم، سنتِ نبویہ، اجماعِ امت اور سلفِ صالحین کا فہم ہے۔ لہٰذا کسی شخص یا جماعت کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ اس کی نسبت "دیوبندی"، "بریلوی" یا "وہابی" ہونے سے نہیں، بلکہ اس کے عقائد و اعمال کے کتاب و سنت کے موافق یا مخالف ہونے سے کیا جائے گا۔
لہٰذا سائل کو چاہیے کہ تعصبات سے بالاتر ہوکر قرآن و سنت اور جمہور اہلِ سنت کے مسلمہ اصولوں کو معیار بنائے، اور جن مسائل میں خود تحقیق کی صلاحیت نہ ہو ان میں ، متقی اورمستنداہلِ علم علماء کی رہنمائی اختیار کرے۔
علماءِ دیوبند کی طرف ،اللہ تعالی سے متعلق عقیدۂ کذب کی نسبت کی وضاحت اور حقیقت
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0تبلیغی جماعت کا صرف ایک معروف طریقے پر کام کرنا ۲۔مصنوعی دانت لگانے سے وضو کا حکم ۳۔خودکش حملہ کا حکم
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0مروجہ تبلیغی جماعت کا حکم ۲۔بغیر وضو کے قرآنِ کریم چھونا ۳۔عصر کے بعد سجدۂ تلاوت کا حکم
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0