السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! میری شادی میرے چچا زاد سے ہوئی، شروع سے اختلافات رہے۔ شادی وٹے سٹے میں ضد میں ہوئی۔ شادی کو تقریباً انتیس سال ہو گئے۔وقفے سے کوئی دو سال گزارے ہوں گے ساتھ۔ ان میں بھی میاں بیوی والا تعلق نہ ہونے کے برابر رہا، کیونکہ مجھے ان سے چڑ تھی۔ انُکو بھی پرواہ نہ تھی۔ پچھلے ۲۳ تئیس سال سے ہمارا کوئی تعلق نہ ہے۔ چچا زاد ہونے کے نا طے نظر آ جاتے ہیں، لیکن نہ بات چیت، نہ دعا سلام، نہ کوئی تعلق ہے تو کیا ہمارا نکاح با قی ہے؟ کیا میں عقد ثا نی کر سکتی ہوں؟
واضح ہو کہ شوہر جب تک طلاق یا خلع نہ دے ، اس وقت تک نکاح ختم نہیں ہوتا، اگرچہ ازدواجی تعلق کو قائم ہوئے کئی سال گزر چکے ہوں، چنانچہ اگر سائلہ کو اس کے شوہر نے طلاق نہ دی ہو اور نہ باہمی رضامندی سے خلع ہوئی ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ برقرار ہے، لہذا اس کے لیے فی الحال کسی دوسری جگہ نکاح کرنا شرعاً ناجائزوحرام اور گناہ کبیرہ ہے، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے، تاہم اگر ہر ممکن کوشش کے باجود نباہ کی کوئی صورت نہ نکل آئے تو ایسی صورت میں سائلہ اپنے شوہر سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ علیحدگی حاصل کرسکتی ہے، اس صورت میں وہ گناہ گار بھی نہ ہوگی۔
ففی الفتاوى الهندية: «(أما تفسيره) شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق. (وأما ركنه) فقوله: أنت طالق. ونحوه كذا في الكافي» (1/ 348)
وفي حاشية ابن عابدين: وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها.» (3/ 228)