السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! میرے بڑے بھائی نے غصے میں اپنی بیوی کو زبانی طور پر دو دفعہ طلاق دی ہے، مجھے فتویٰ جاری فرما دیں کہ کیا طلاق واقع ہو چکی ہے یا ابھی رجوع کی گنجائش باقی ہے؟ گھر کے تین گواہ بھی موجود ہیں جنہوں نے خود سنا ہے کہ دو دفعہ زبانی طلاق دی گئی ہے، مہربانی فرما کر رہنمائی کریں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعۃً سائل کے بھائی نے گواہان کی موجودگی میں اپنی بیوی کو دو بار طلاق کے الفاظ کہے ہوں تو اس سے اس کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے، تاہم دوران عدت شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے، چنانچہ اگر وہ زبانی طور پر رجوع کرلے، مثلاً کہہ دے کہ ”میں رجوع کرتا ہوں“ وغیرہ یا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کرلے یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چھولے تو اس سے بھی رجوع درست ہوکر دونوں کا نکاح برقرار رہے گا، ورنہ دوران عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے پر دونوں کا نکاح بالکلیہ ختم ہوجائے گا اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، اس کے بعد دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب وقبول کرتے ہوئے تجدید نکاح لازم ہوگا، بہر دو صورت آئندہ کے لیے شوہر کو فقط ایک طلاق کا اختیار باقی رہے گا، لہذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
ففي تنزيل العزيز: ﴿ٱلطَّلَٰقُ مَرَّتَانِۖ فَإِمۡسَاكُۢ بِمَعۡرُوفٍ أَوۡ تَسۡرِيحُۢ بِإِحۡسَٰنٖۗ﴾ [البقرة: 229]
وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: «وأما بيان حكم الطلاق فحكم الطلاق يختلف باختلاف الطلاق من الرجعي، والبائن، ويتعلق بكل واحد منهما أحكام بعضها أصلي، وبعضها من التوابع، أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت، وهذا عندنا،» (3/ 180)
وفي الفتاوى الهندية: «الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة.» (1/ 468)