امامت و جماعت

مغرب کی نماز میں اذان کے بعد وقفہ کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
95806
| تاریخ :
2026-05-29
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مغرب کی نماز میں اذان کے بعد وقفہ کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، سلام کے بعد عرض ہے کہ ہمارے علاقے میں مغرب کی اذان کے بعد فوراً جماعت کھڑی ہوتی ہے ، جبکہ اس کی وجہ سے لوگوں سے اکثر رکعت فوت ہوجاتی ہے، گھر کی دوری کی بنا پر، خلاصہ
عرض یہ ہے کہ اذانِ مغرب کے بعد فوراً نماز با جماعت پڑھنا شرعاً درست ہے یا ایک دو منٹ انتظار کیا جائے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مغرب کی نماز میں چونکہ تعجیل مستحب ہے،لہذا جتنی جلدی ممکن ہو، نماز باجماعت کا اہتمام کیا جائے، البتہ اگر ایک سے دو منٹ کا وقفہ کیا جائے، تاکہ زیادہ نمازی جماعت میں شریک ہوسکیں تو یہ صورت بلاکراہت جائز ہے، کیونکہ فقہاء کرام کی عبارات سے اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کرنے کی تین صورتیں ملتی ہیں:
(1)۔۔اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعات سے کم کم وقفہ کیا جائے۔ (یہ صورت بلا کراہت جائز ہے)
(2)۔۔اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعات یا اس سے زیادہ وقفہ کیا جائے، لیکن ستارے نظر آنے سے پہلے پہلے تک۔ (یہ صورت کراہت تنزیہی سے خالی نہیں)
(3)۔۔اذان اور اقامت کے درمیان اتنی تاخیر کی جائے کہ ستارے خوب واضح ہوجائیں۔ (یہ صورت مکروہ تحریمی ہے۔)
چنانچہ اگر کثرت جماعت کی خاطر پہلی صورت پر عمل کیا جائے تو یہ طریقہ بلاشبہ شرعاً جائز اور درست ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: «و) تعجيل (مغرب مطلقا) وتأخيره قدر ركعتين يكره تنزيها»
وفي حاشية ابن عابدين: «(قوله: يكره تنزيها) أفاد أن المراد بالتعجيل أن لا يفصل بين الأذان والإقامة بغير جلسة أو سكتة على الخلاف. وأن ما في القنية من استثناء التأخير القليل محمول على ما دون الركعتين، وأن الزائد على القليل إلى اشتباك النجوم مكروه تنزيها، وما بعده تحريما إلا بعذر كما مر قال في شرح المنية: والذي اقتضته الأخبار كراهة التأخير إلى ظهور النجم وما قبله مسكوت عنه، فهو على الإباحة وإن كان المستحب التعجيل. اهـ. ونحوه ما قدمناه عن الحلية وما في النهر من أن ما في الحلية مبني على خلاف الأصح: أي المذكور في المبتغى بقوله يكره تأخير المغرب في رواية. وفي أخرى: لا، ما لم يغب الشفق. والأصح الأول إلا لعذر اهـ فيه نظر؛ لأن الظاهر أن المراد بالأصح التأخير إلى ظهور النجم أو إلى غيبوبة الشفق فلا ينافي أنه إلى ما قبل ذلك مكروه تنزيها لترك المستحب وهو التعجيل تأمل.» (1/ 369)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالوہاب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 95806کی تصدیق کریں
0     33
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات