السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! موبائل میں ٹائپ کرکے شوہر بیوی کو کہے: "تم آزاد ہو"، تو کیا اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ بعد میں شوہر نہیں مان رہا کہ طلاق ہوئی ہے، وہ کہتا ہے کہ طلاق کے لیے الفاظ کا تلفظ اور آواز ضروری ہے، اب عورت کو کیا کرنا چاہیے؟ شوہر کے پاس رہے یا عدت کرے؟
واضح ہو کہ جس طرح زبانی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، اسی طرح موبائل وغیرہ پر لکھ کر طلاق دینے سے بھی شرعا طلاق واقع ہوجاتی ہے، وقوع طلاق کے لیے طلاق کا تلفظ شرعاً لازم نہیں، نیز بیوی کو ”تم آزاد ہو“ کا جملہ کہنا چونکہ عرف میں طلاق کے لیے ہی مستعمل ہوتا ہے اور اس جملہ سے نیت کے بغیر ہی طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً شوہر نے بیوی کو ”تم آزاد ہو“ کا جملہ ایک مرتبہ موبائل پر لکھ کر بھیجا ہو تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے، تاہم شوہر کو دوران عدت رجوع کا حق حاصل ہے، (بشرطیکہ اس سے قبل یا بعدمیں مزید دو طلاقیں نہ دی ہوں) چنانچہ شوہر اگر زبانی طور پر رجوع کرلے، مثلاً کہہ دے کہ ”میں رجوع کرتا ہوں “ وغیرہ یا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کرلے یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چھولے تو اس سے بھی رجوع درست ہوکر دونوں کا نکاح برقرار رہے گا، ورنہ دورانِ عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے پر دونوں کا نکاح ختم ہوجائے گا اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
ففي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: «وإن كتب كتابة مرسومة على طريق الخطاب والرسالة مثل: أن يكتب أما بعد يا فلانة فأنت طالق أو إذا وصل كتابي إليك فأنت طالق يقع به الطلاق، ولو قال: ما أردت به الطلاق أصلا لا يصدق إلا أن يقول: نويت طلاقا من وثاق فيصدق فيما بينه وبين الله عز وجل؛ لأن الكتابة المرسومة جارية مجرى الخطاب». (3/ 109)
وفي حاشية ابن عابدين: «بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت،» (3/ 299)