۱۔ امام کے پیچھے نماز پڑھتے وقت ہمیں سورۃ الفاتحہ اور کوئی سورت پڑھنی چاہیئے یا پھر خاموشی سے سننا چاہیئے؟ آپ مہربانی فرما کر مجھے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا طریقہ بتایئے۔
۲۔ اگر ایک رکعت امام پڑھا چکا ہے، اور دوسری رکعت میں ہم نیت کریں، تو ہمیں کتنی رکعت میں التحیات پڑھنا چاہیئے؟ مہربانی کر کے مجھے اس کی پوری تفصیل بھیج دیں۔
۱۔ امام کے ساتھ نماز پڑھنے کا جو طریقہ خود نبی کریمﷺ نے سکھایا ہے، وہ صحیح مسلم شریف کے الفاظ میں یہ ہے کہ،آپﷺ نے فرمایا کہ امام اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ اس کی اقتداء کی جائے، اس کے ساتھ اختلاف مت کرو، جب وہ تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو، جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم اللہم ربنا لک الحمد کہو ، اور جب وہ سجدہ کرے تم بھی سجدہ کرو، اور ایک روایت میں یہ بھی فرمایا کہ ، جب وہ قراءت کرے تو تم خاموش رہو۔
جبکہ قرآن وحدیث میں مقتدی کو امام کے پیچھے خاموش رہنے کا صریح حکم ہے نہ سورۃ فاتحہ پڑھے نہ کوئی دوسری سورت۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو احسن الکلام مؤلفہ شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر، مجموعہ رسائل وتجلیات صفدر مؤلفہ مولانا امین اوکاڑوی۔
۲۔ اگر یہ دو یا تین رکعتوں والی نماز ہو ، تو ہر رکعت میں اور اگر چار رکعت والی نماز ہو تو تین رکعتوں میں تشہد پڑھے گا۔
ففی قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ (الأعراف: 204)
وفی صحيح مسلم: عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "إنما الإمام ليؤتم به، فلا تختلفوا عليه فإذا كبر فكبروا، وإذا ركع فاركعوا وإذا قال: سمع الله لمن حمده، فقولوا: اللهم ربنا لك الحمد، وإذا سجد فاسجدوا، وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا أجمعون" اھ (1/ 309)
وفیه أیضا: وفي حديث جرير، عن سليمان، عن قتادة من الزيادة "وإذا قرأ فأنصتوا" اھ (1/ 304) واللہ أعلم بالصواب!