السلام علیکم مفتی صاحب!
میرا سوال یہ ہے کہ میرے شوہر نے مجھے فون پر دو مرتبہ طلاق دی تھی، یہ واقعہ مئی میں پیش آیا۔ میں نے دو بار طلاق کے الفاظ سن کر فون کاٹ دیا، لیکن مجھے شک ہے کہ کہیں تین طلاق نہ دی گئی ہو۔
یہ شک بار بار میرے ذہن میں آتا ہے، حالانکہ میں نے اپنے شوہر سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے صرف دو مرتبہ ہی طلاق دی تھی۔ اس کے بعد ہم نے رجوع بھی کر لیا ہے۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا صرف شک کی بنیاد پر کوئی شرعی حکم ثابت ہوتا ہے یا نہیں؟ اور یہ جو وسوسہ میرے ذہن میں آ رہا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگرواقعۃ سائلہ نے فون پردوبارطلاق کے الفاظ سن کرفون کاٹ دیاہواورسائلہ کے شوہرنےبھی صرف دو مرتبہ طلاق دی ہو اور اوراب بھی دوطلاقوں کا اقرار کررہاہوں تواس صورت میں شرعاًدوطلاقوں کاہی حکم لگایاجائیگا، وہم اور وسوسہ کی وجہ سے مزیدکوئی طلاق واقع نہیں ہوگی،لہذاان دوطلاقوں کے بعدسائلہ اوراس کاشوہررجوع کرکے میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی گزارسکتے ہیں تاہم سائلہ کے شوہرکو آئندہ فقط ایک طلاق کااختیارباقی ہے ،اس لیے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کمافی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» : وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.(1/ 470دارالفکر بیروت)
وفی الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» : (هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) أي عدة الدخول حقيقة، إذ لا رجعة في عدة الخلوة.ابن كمال.وفي البزازية ادعى الوطئ بعد الدخول وأنكرت فله الرجعة لا في عكسه.وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطأ (بنحو) متعلق باستدامة (راجعتك ورددتك ومسكتك) بلا نية لانه صريح (و) بالفعل مع الكراهة»(ص228دارالعلمیة ،بیروت)
«الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» : ولو شك أطلق واحدة أو أكثر بنى على الاقل.(ص212دارالعلمیة ،بیروت)