بنیادی طور پر میں نکاح سے پہلے طلاق کے مسئلے کا فتویٰ دیکھ رہا تھا۔ اس کے بعد میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ یہ الفاظ نہیں بولنے چاہئیں۔ اسی وجہ سے دل میں ایک خیال آتا رہا کہ تم نے نکاح سے پہلے ایسا کیا تو طلاق۔
اس وقت میں گاڑی میں تھا، تو میری زبان ہلی بھی تھی لیکن یہ بھی یقینی نہیں کہ آواز نکلی یا نہیں۔
مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ آواز نکلی تھی یا نہیں۔ میری منگنی ہو چکی ہے۔ اگر اب میں نکاح کرتا ہوں تو کیا اس کا کوئی اثر پڑے گا؟
سب سے پہلی بات یہ ہے کہ میری نیت نہیں تھی اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ تھا کہ مجھے کوئی ایسا قدم اٹھانا پڑے۔ بس یہ بات اس مسئلے کو سننے کی وجہ سے میرے ذہن میں آ گئی تھی۔
واضح ہوکہ وقوع ِطلاق کے لیے ضروری ہےکہ جس عورت کو طلاق دی جارہی ہو وہ طلاق دینے والے کے نکاح میں موجود ہو یا اگر وہ نکاح میں موجود نہ ہو تو ملک یا سبب ملک کی طرف نسبت کرکےصریح الفاظ کےساتھ اسے طلاق دی جائےجیسے"اگر میں نے فلاں عورت سے نکاح کیا تو اس کو طلاق" وغیرہ ،اس کے بغیرکوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی مذکورعورت سے محض منگنی ہوئی ہوباقاعدہ نکاح نہ ہواتو ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،اس لیےبلاوجہ وساوس کاشکارہونے اورشک وشبہ میں پڑنے سے احترازچاہیے۔
كمافي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» : ومنها الإضافة إلى المرأة في صريح الطلاق(3/ 141)
وفي حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي:(ومحله المنكوحة)وأهله زوج عاقل بالغ مستيقظ وركنه لفظ مخصوص»(3/ 230)
وفي حجة الله البالغة للشيخ ولي الله الدھلوي : وقال صلى الله عليه وسلم: " لا طلاق فيما لا يملك ". وقال عليه السلام: " لا طلاق قبل النكاح ". أقول: الظاهر أنه يعم الطلاق المنجر والمعلق بنكاح وغيره، والسبب في ذلك أن الطلاق إنما يجوز في للمصلحة، والمصلحة لا تتمثل عنده قبل أن يملكها، ويرى منها سيرتها، فكان طلاقها قبل ذلك بمنزلة نية المسافر الإقامة في المفازة أو الغازى في دار الحرب مما تكذبه دلائل الحال"(2/ 214)