السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے: 1۔واقعہ:میرے شوہر نے غصے کی شدت میں WhatsApp میسج پر مجھے 2 بار یہ لکھا:
"میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، جاؤ میری زندگی سے اب"اور"طلاق دیتا ہوں میں آپ کو۔"چیٹ کی ٹائمنگ 6:50pm سے 6:52pm ہے۔2۔ شوہر کا بیان:انہوں نے بعد میں کہا:3۔مجھے بہت پچھتاوا ہے، میں اپنے کیے پر بہت شرمندہ بھی ہوں۔ میں بہت شدید غصے میں تھا، میرے اوپر پریشر بھی بہت تھا۔ میری وائف مجھے بہت غصہ دلا دیتی ہیں کبھی کبھار، پر میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں، میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔"میں رو کر معافی بھی مانگ چکا ہوں اور رجوع بھی کر چکا ہوں۔3۔ میرا سوال:a۔ کیا یہ 2 بار کہنا 2 طلاقیں کاؤنٹ ہوں گی یا 1؟b۔ "طلاق کا مطلب نہ پتا ہونا" اور "غصے کی شدت" کا شرعی حکم کیا ہے؟c۔ رجوع کے بعد ہمارا نکاح باقی ہے یا نہیں؟ اب کتنی طلاق کا اختیار باقی ہے؟d۔ آگے ہمیں کیا احتیاط کرنی چاہیے؟جزاک اللہ۔ آپ کا لکھا ہوا جواب ہمارے لیے رہنمائی بن جائے گا۔
واضح ہوکہ طلاق کا مطلب نہ جاننا یا محض شدید غصہ میں طلاق کے الفاظ بولنا وقوع ِطلاق سے مانع نہیں بنتا، لہذاصورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے واٹس ایب پر مذکورواضح اور صریح الفاظ " میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، جاؤ میری زندگی سے اب ، طلاق دیتا ہوں میں آپ کو "لکھ کرارسال کر دیئے تو اس سےسائلہ پر دو طلاقِ رجعی واقع ہوچکی تھی، جس کے بعد شوہر کو دورانِ عدت رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا،چنانچہ اگرسائلہ کےشوہر نے دورانِ عدت قولاً یا تحریراً "میں تم سے رجوع کرتا ہوں"جیسے الفاظ استعمال کئے ہوں یا فعلاََ جیسے ہمبستری یا بوس کنار و بیوی کوشہوت سےچھولیاہوتواس سے شرعاً رجوع ہوچکاہے اور میاں وبیوی کا نکاح بدستور برقرار ہے،لہذا ان کا میاں وبیوی کی طرح زندگی بسر کرنا درست ہے،البتہ آئندہ کے لیے سائلہ کے شوہرکے پاس صرف ایک طلاق کا حق رہ گیا ہے، لہٰذا آئندہ طلاق کے الفاظ استعمال کر نے سے اجتناب لازم ہے ۔
كمافي حاشية ابن عابدين:تحت(قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو اھ(مطلب في الطلاق بالكتابة، ج: ٢، ص: ٣٩٥، ط: سعيد)
وفي الهندية: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية اھ (الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: ١، صّ ٤٧٠، ط: ماجدية)