میں ایک مسئلے کو سمجھنا چاہتا ہوں اور کسی اسلامی عالم سے اس کی شرعی وضاحت چاہتا ہوں۔
پچھلے سال تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ ڈپازٹرز کو کم از کم منافع دیں۔ تاہم اسلامی بینکوں نے اس پر اعتراض کیا کہ ڈپازٹس پر مقررہ یا گارنٹی شدہ منافع دینا اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔
لیکن اسی وقت یہ بات بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ یہی اسلامی بینک اپنے صارفین سے فنانسنگ پر اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ کے مطابق مقررہ یا بینچ مارک منافع وصول کرتے ہیں۔
اس سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی بینکوں کے ڈپازٹرز کو روایتی بینکوں کے مقابلے میں کم منافع ملتا ہے، جبکہ بینک خود نسبتاً زیادہ منافع حاصل کرتے ہیں۔
شرعی لحاظ سے اس فرق کی کیا وضاحت ہے؟ ڈپازٹس پر فکسڈ منافع کو غیر اسلامی کیوں سمجھا جاتا ہے، جبکہ فنانسنگ پر بینچ مارک شدہ منافع کو جائز کیسے قرار دیا جاتا ہے؟ کیا یہ فرق معاہدے کی ساخت، رسک شیئرنگ کے اصول، یا کسی اور فقہی تشریح کی بنیاد پر ہے؟
واضح ہو کہ کلائنٹ یا بینک کسٹمر جو منافع حاصل کرنے کی خاطر اسلامی بینکوں میں اپنی رقم جمع کراتے ہیں اس کی شرعی اور فقہی حیثیت عموما مضاربت کی ہوتی ہے، جس میں بینک مضارب اور کلائنٹ رب المال ہوتا ہے، اور مضاربت (چاہے براہ راست ہو یا بینک وغیرہ کے ذریعہ ہو) میں کسی بھی فریق کا اپنے لیے بطور نفع کوئی مخصوص مقدار طے کرنا شرعا جائز نہیں، اس لیے کہ ممکن ہے کہ مضاربت کے اس عقد میں کوئی نفع ہی نا ہو یا کسی فریق کا اپنے لیے متعین کردہ مقدار کی حد تک یا اس سے کم نفع ہو اور سارا نفع ایک ہی فریق لے جائےاور دوسرا فریق نفع سے محروم ہو۔ اس لیے کلائنٹس کی طرف سے ڈپازٹس پر منافع کو متعین کرنا شرعا غیر اسلامی اور ناجائز ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔
جبکہ بینک کی طرف سے کسی چیز کی خریداری وغیرہ میں کلائنٹ کی طرف سے جو فنانسنگ ہوتی ہے اس کی فقہی حیثیت عموما مرابحہ، اجارہ، اجارہ منتہیہ بالتملیک ، مشارکۃ، شرکۃ متناقصہ وغیرہ ہوتی ہے، اور اس میں بینک کی حیثیت سیلر یا شریک وغیرہ کی ہوتی ہے،اور کلائنٹ خریدار کی طرح ہوتا ہے، اور عام مارکیٹ میں فریکلی سودا کرتے ہوئے جیسے کسی سیلر کا اپنی پروڈکٹس فروخت کرتے ہوئے نفع کی مقدار متعین کرنا جائز (لازم) ہے ایسا ہی اگر سودا بینک کے ذریعہ سے ہو تو بھی بینک کا پروڈکٹ فروخت کرنے یا بطور شریک فنانسنگ کرکے کلائنٹ سے متعین نفع لینا شرعا جائز ہےاس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مزید تفصیل کیلیے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ کی کتاب ’’اسلامی بینکاری کی بنیادیں‘‘ کی طرف رجوع کریں۔
في مجمع الأنهر شرح ملتقي الأبحر: وَفِي الشَّرْعِ ( هِيَ ) أَيْ الْمُضَارَبَةُ ( شَرِكَةٌ ) فِي ( الرِّبْحِ ) بِأَنْ يَقُولَ رَبُّ الْمَالِ : دَفَعْته مُضَارَبَةً أَوْ مُعَامَلَةً عَلَى أَنْ يَكُونَ لَك مِنْ الرِّبْحِ جُزْءٌ مُعَيَّنٌ كَالنِّصْفِ أَوْ الثُّلُثِ أَوْ غَيْرِهِ ، وَيَقُولَ الْمُضَارِبُ : قَبِلْت ،(إلى قوله)( بِمَالٍ مِنْ جَانِبٍ ) - وَهُوَ جَانِبُ رَبِّ الْمَالِ - ( وَعَمَلٍ مِنْ جَانِبٍ ) آخَرَ وَهُوَ جَانِبُ الْمُضَارِبِ ، وَهِيَ مَشْرُوعَةٌ لِلْحَاجَةِ إلَيْهَا (إلى قوله)( وَ ) شُرِطَ ( كَوْنُ الرِّبْحِ بَيْنَهُمَا مُشَاعًا ) أَيْ لَا تَصِحُّ الْمُضَارَبَةُ حَتَّى يَكُونَ الرِّبْحُ مُشَاعًا بَيْنَهُمَا بِأَنْ يَكُونَ أَثْلَاثًا أَوْ مُنَصَّفًا وَنَحْوَهُمَا ، لِأَنَّ الشَّرِكَةَ لَا تَتَحَقَّقُ إلَّا بِهِ فَلَوْ شُرِطَ لِأَحَدِهِمَا دَرَاهِمُ مُسَمَّاةٌ تَبْطُلُ فَيَكُونُ الرِّبْحُ لِرَبِّ الْمَالِ ، وَشُرِطَ كَوْنُ نَصِيبِ كُلٍّ مِنْ الْمُضَارِبِ وَرَبِّ الْمَالِ مَعْلُومًا عِنْدَ الْعَقْدِ ، وَكَوْنُ رَأْسِ الْمَالِ مَعْلُومًا تَسْمِيَةً أَوْ إشَارَةً ( فَتَفْسُدُ ) الْمُضَارَبَةُ ( إنْ شُرِطَ لِأَحَدِهِمَا عَشَرَةُ دَرَاهِمَ مَثَلًا ) لِأَنَّ اشْتِرَاطَ ذَلِكَ مِمَّا يَقْطَعُ الشَّرِكَةَ بَيْنَهُمَا لِأَنَّهُ رُبَّمَا لَا يَرْبَحُ بِالشَّرْطِ فَإِذَا لَمْ يَصِحَّ بَقِيَتْ مَنَافِعُهُ مُسْتَوْفَاةً بِحُكْمِ الْعَقْدِ فَيَجِبُ أَجْرُ الْمِثْلِ . اه (ص:4، ج:3، المكتبة الشاملة)