اسلامی بینکاری

ڈپازٹس پر مقررہ منافع کے عدم جواز اور فائنانسنگ پر بینچ مارک شدہ منافع کے جواز کی وجہ

فتوی نمبر :
96105
| تاریخ :
2026-06-06
جدید فقہی مسائل / بینکاری / اسلامی بینکاری

ڈپازٹس پر مقررہ منافع کے عدم جواز اور فائنانسنگ پر بینچ مارک شدہ منافع کے جواز کی وجہ

میں ایک مسئلے کو سمجھنا چاہتا ہوں اور کسی اسلامی عالم سے اس کی شرعی وضاحت چاہتا ہوں۔

پچھلے سال تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ ڈپازٹرز کو کم از کم منافع دیں۔ تاہم اسلامی بینکوں نے اس پر اعتراض کیا کہ ڈپازٹس پر مقررہ یا گارنٹی شدہ منافع دینا اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔

لیکن اسی وقت یہ بات بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ یہی اسلامی بینک اپنے صارفین سے فنانسنگ پر اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ کے مطابق مقررہ یا بینچ مارک منافع وصول کرتے ہیں۔

اس سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلامی بینکوں کے ڈپازٹرز کو روایتی بینکوں کے مقابلے میں کم منافع ملتا ہے، جبکہ بینک خود نسبتاً زیادہ منافع حاصل کرتے ہیں۔

شرعی لحاظ سے اس فرق کی کیا وضاحت ہے؟ ڈپازٹس پر فکسڈ منافع کو غیر اسلامی کیوں سمجھا جاتا ہے، جبکہ فنانسنگ پر بینچ مارک شدہ منافع کو جائز کیسے قرار دیا جاتا ہے؟ کیا یہ فرق معاہدے کی ساخت، رسک شیئرنگ کے اصول، یا کسی اور فقہی تشریح کی بنیاد پر ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کلائنٹ یا بینک کسٹمر جو منافع حاصل کرنے کی خاطر اسلامی بینکوں میں اپنی رقم جمع کراتے ہیں اس کی شرعی اور فقہی حیثیت عموما مضاربت کی ہوتی ہے، جس میں بینک مضارب اور کلائنٹ رب المال ہوتا ہے، اور مضاربت (چاہے براہ راست ہو یا بینک وغیرہ کے ذریعہ ہو) میں کسی بھی فریق کا اپنے لیے بطور نفع کوئی مخصوص مقدار طے کرنا شرعا جائز نہیں، اس لیے کہ ممکن ہے کہ مضاربت کے اس عقد میں کوئی نفع ہی نا ہو یا کسی فریق کا اپنے لیے متعین کردہ مقدار کی حد تک یا اس سے کم نفع ہو اور سارا نفع ایک ہی فریق لے جائےاور دوسرا فریق نفع سے محروم ہو۔ اس لیے کلائنٹس کی طرف سے ڈپازٹس پر منافع کو متعین کرنا شرعا غیر اسلامی اور ناجائز ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔
جبکہ بینک کی طرف سے کسی چیز کی خریداری وغیرہ میں کلائنٹ کی طرف سے جو فنانسنگ ہوتی ہے اس کی فقہی حیثیت عموما مرابحہ، اجارہ، اجارہ منتہیہ بالتملیک ، مشارکۃ، شرکۃ متناقصہ وغیرہ ہوتی ہے، اور اس میں بینک کی حیثیت سیلر یا شریک وغیرہ کی ہوتی ہے،اور کلائنٹ خریدار کی طرح ہوتا ہے، اور عام مارکیٹ میں فریکلی سودا کرتے ہوئے جیسے کسی سیلر کا اپنی پروڈکٹس فروخت کرتے ہوئے نفع کی مقدار متعین کرنا جائز (لازم) ہے ایسا ہی اگر سودا بینک کے ذریعہ سے ہو تو بھی بینک کا پروڈکٹ فروخت کرنے یا بطور شریک فنانسنگ کرکے کلائنٹ سے متعین نفع لینا شرعا جائز ہےاس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مزید تفصیل کیلیے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ کی کتاب ’’اسلامی بینکاری کی بنیادیں‘‘ کی طرف رجوع کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

في مجمع الأنهر شرح ملتقي الأبحر: وَفِي الشَّرْعِ ( هِيَ ) أَيْ الْمُضَارَبَةُ ( شَرِكَةٌ ) فِي ( الرِّبْحِ ) بِأَنْ يَقُولَ رَبُّ الْمَالِ : دَفَعْته مُضَارَبَةً أَوْ مُعَامَلَةً عَلَى أَنْ يَكُونَ لَك مِنْ الرِّبْحِ جُزْءٌ مُعَيَّنٌ كَالنِّصْفِ أَوْ الثُّلُثِ أَوْ غَيْرِهِ ، وَيَقُولَ الْمُضَارِبُ : قَبِلْت ،(إلى قوله)( بِمَالٍ مِنْ جَانِبٍ ) - وَهُوَ جَانِبُ رَبِّ الْمَالِ - ( وَعَمَلٍ مِنْ جَانِبٍ ) آخَرَ وَهُوَ جَانِبُ الْمُضَارِبِ ، وَهِيَ مَشْرُوعَةٌ لِلْحَاجَةِ إلَيْهَا (إلى قوله)( وَ ) شُرِطَ ( كَوْنُ الرِّبْحِ بَيْنَهُمَا مُشَاعًا ) أَيْ لَا تَصِحُّ الْمُضَارَبَةُ حَتَّى يَكُونَ الرِّبْحُ مُشَاعًا بَيْنَهُمَا بِأَنْ يَكُونَ أَثْلَاثًا أَوْ مُنَصَّفًا وَنَحْوَهُمَا ، لِأَنَّ الشَّرِكَةَ لَا تَتَحَقَّقُ إلَّا بِهِ فَلَوْ شُرِطَ لِأَحَدِهِمَا دَرَاهِمُ مُسَمَّاةٌ تَبْطُلُ فَيَكُونُ الرِّبْحُ لِرَبِّ الْمَالِ ، وَشُرِطَ كَوْنُ نَصِيبِ كُلٍّ مِنْ الْمُضَارِبِ وَرَبِّ الْمَالِ مَعْلُومًا عِنْدَ الْعَقْدِ ، وَكَوْنُ رَأْسِ الْمَالِ مَعْلُومًا تَسْمِيَةً أَوْ إشَارَةً ( فَتَفْسُدُ ) الْمُضَارَبَةُ ( إنْ شُرِطَ لِأَحَدِهِمَا عَشَرَةُ دَرَاهِمَ مَثَلًا ) لِأَنَّ اشْتِرَاطَ ذَلِكَ مِمَّا يَقْطَعُ الشَّرِكَةَ بَيْنَهُمَا لِأَنَّهُ رُبَّمَا لَا يَرْبَحُ بِالشَّرْطِ فَإِذَا لَمْ يَصِحَّ بَقِيَتْ مَنَافِعُهُ مُسْتَوْفَاةً بِحُكْمِ الْعَقْدِ فَيَجِبُ أَجْرُ الْمِثْلِ . اه (ص:4، ج:3، المكتبة الشاملة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدابراہیم خلیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 96105کی تصدیق کریں
0     24
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • بینک سے قسطوں پر گاڑی لینے کی شرائط

    یونیکوڈ   اسکین   اسلامی بینکاری 1
  • میزان بینک کے ساتھ ، ہر قسم کے مالی معاملات کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 1
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 2
  • خیبر بینک سےمتعلق سوال

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان بینک میں انوسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 2
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 8
  • میزان بینک سے گھر تعمیر کرنے کیلئے قرض لینا

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • بینک الفلاح اسلامک کے سیونگ اکاؤنٹ کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • "فرسٹ پنجاب مضاربہ بینک" سے لون لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ سے حاصل شدہ منافع کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 1
  • مروجہ اسلامی بینکوں سے قرضہ لینا - اشتراک کرنا - یا کاروبار کرنا

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 1
  • میزان بینک کے سیوئنگ اکاؤنٹ میں پیسے جمع کرنا

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان بینک میں انویسٹمنٹ اور منافع کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 1
  • اسلامی بینکوں میں ملازمت اور ان سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • اسلامی بینک کے ذریعہ منافع کمانا

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان بینک کے سیونگ اکاؤنٹ کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 2
  • Ruling regarding savings accounts on Islamic Banks

    یونیکوڈ   انگلش   اسلامی بینکاری 0
  • Ruling on Meezan Banks car financing

    یونیکوڈ   انگلش   اسلامی بینکاری 0
  • مروجہ اسلامی بینکوں کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان میں پیسے رکھ کر منافع کمانا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 1
  • اسلامک بینک میں انویسٹمنٹ کرکے منافع لینا

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • اسلامی بینک کے ذریعہ منافع کمانے کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 2
  • میزان بینک میں انویسٹمنٹ کر سکتے ہیں؟

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 0
  • میزان بینک میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   اسلامی بینکاری 1
Related Topics متعلقه موضوعات