لڑکی کا حلفیہ بیان: میں مسماۃ فوزیہ دختر ظاہر شاہ، اللہ کو گواہ بنا کر بیان کرتی ہوں کہ میرے شوہر نے 2019 میں مجھے دوبار طلاق دی تھی، اس کے بعد اس نے رجوع کر لیا تھا، اب دو ماہ قبل اس نے نشے کی حالت میں مجھے تین بار ان الفاظ کے ساتھ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "طلاق دی ہے، طلاق کے وقت میرے شوہر کا بھائی انعام موجود تھا، اور اس نے اپنے بھائی کے خلاف تھانے میں بیان بھی دیا ہے کہ میرے بھائی نے نشہ کی حالت میں تین بار اپنی بیوی کو طلاق دی ہے۔
لڑکے کا حلفیہ بیان: میں مسمیٰ سہیل خان ولدگل یار خان اللہ کو گواہ بنا کر بیان کرتا ہوں کہ میں نشے کی حالت میں تھا ،مجھے کچھ علم نہیں ہے، میری بیوی کا بیان ہے کہ میں نے نشے کی حالت میں اسے تین بار طلاق دی ہے، میرا بھائی بھی میری بیوی کے بیان کو سچ مانتا ہے اور اس کا بھی یہی کہنا ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو تین بار طلاق دی ہے ۔کیا ہماری طلاق ہوئی یا نہیں ؟ کیا اب ہم میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں ؟قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔
واضح ہو کہ نشہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے بیان کے مطابق اس کاشوہرپہلی مرتبہ 2019 میں دوبارصریح الفاظ میں طلاق دیکررجوع کرچکاتھا،لہذااس کے پاس آئندہ کے لیے فقط ایک طلاق کا اختیارباقی تھا،چنانچہ حالیہ واقعہ میں جب اس نے مذکور جملہ "میں تمہیں طلاق دیتاہوں" تین بارکہاتو اس سے اس کی بیوی پرمزید ایک طلاق واقع ہو کر تین طلاقوں کے ذریعہ حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہےاور بقیہ الفاظ طلاق محل باقی نہ رہنے کی وجہ سے لغو ہوگئے ہیں، چنانچہ اب نہ رجوع ہوسکتاہے ، اورنہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدنکاح ہوسکتا ہے، لہذا دونوں پرلازم ہےکہ فوراً ایک دوسرےسےعلیحدگی اختیارکریں اورمیاں بیوی والےتعلقات ہرگزقائم نہ کریں ،ورنہ دونوں سخت گناہ گارہوں گے،جبکہ سائلہ عدت مکمل کرنے کے بعد اگرکسی دوسری جگہ نکاح کرنا چاہےتوکرسکتی ہے۔
کما فی الدر المختار: (ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران، (الیٰ قولہ) (أو سكران) ولو بنبيذ أو حشيشأو أفيون أو بنج زجرا، وبه يفتى تصحيح القدوري الخ (ركن الطلاق، ج: 3، ص: 235-239-240، مط: سعید کراچی)
وفی رد المحتار تحت قول الدر (أو سكران): وبه ظهر أن المختار قولهما في جميع الأبواب فافهم. وبين في التحرير حكمه أنه إن كان سكره بطريق محرم لا يبطل تكليفه فتلزمه الأحكام وتصح عبارته من الطلاق والعتاق، والبيع والإقرار، وتزويج الصغار من كفء، والإقراض والاستقراض لأن العقل قائم، وإنما عرض فوات فهم الخطاب بمعصيته، فبقي في حق الإثم ووجوب القضاء، (مطلب في تعريف السكران وحكمه، ج: 3، ص: 239، مط: سعید کراچی)
وفی بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع: وأما السكران إذا طلق امرأته فإن كان سكره بسبب محظور بأن شرب الخمر أو النبيذ طوعا حتى سكر وزال عقله فطلاقه واقع عند عامة العلماء وعامة الصحابة رضي الله عنهم (الیٰ قولہ) (ولنا) عموم قوله عز وجل: {الطلاق مرتان} [البقرة: 229] إلى قوله سبحانه وتعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] من غير فصل بين السكران وغيره إلا من خص بدليل. وقوله عليه الصلاة والسلام «كل طلاق جائز إلا طلاق الصبي والمعتوه» ولأن عقله زال بسبب؛ هو معصية فينزل قائما عقوبة عليه وزجرا له عن ارتكاب المعصية ولهذا لو قذف إنسانا أو قتل يجب عليه الحد والقصاص وأنهما لا يجبان على غير العاقل دل أن عقله جعل قائما وقد يعطى للزائل حقيقة حكم القائم تقديرا إذا زال بسبب هو معصية للزجر والردع، الخ (فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى الزوج، ج: 3، ص: 99، مط: سعید کراچی)
وفی الھدایۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها " والأصل فيه قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} [البقرة: 230]( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج:2، ص:399،مط:شرکت علمیۃ ملتان)