میں نے 2020 میں نکاح کیا تھا۔ شروع میں دو مرتبہ نکاح ہوا کیونکہ پہلی مرتبہ ساس نے کہا کہ انہوں نے سنا نہیں تھا۔2021 میں گھریلو اختلافات کی وجہ سے ساس نے مجھے گھر سے نکال دیا، تاہم میرے شوہر مجھے منانے کی کوشش کرتے رہے۔اپریل 2022 میں میرے شوہر نے رات کے وقت غصے کی حالت میں یہ الفاظ کہے:“میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں”بعد میں انہوں نے کہا کہ ان کی نیت صرف ڈرانے کی تھی اور وہ طلاق دینا نہیں چاہتے تھے۔اگلے دن ہم نے 4 علماء سے رجوع کر کے فتویٰ لیا، جس کے مطابق ہم دوبارہ اکٹھے رہنے لگے۔بعد ازاں ہم میاں بیوی کی طرح ساتھ رہے اور 2024 میں ہماری ایک بیٹی پیدا ہوئی اب 4 سال بعد ساس یہ کہہ رہی ہیں کہ2022 میں طلاق کے بعد نکاح ختم ہو گیا تھا۔جو فتویٰ لیا گیا وہ درست نہیں تھا۔ہمارا نکاح برقرار نہیں رہا۔ شرعی سوال:
کیا 2022 میں دی گئی طلاق کے بعد ہمارا نکاح ختم ہو گیا تھا یا ہمارا رجوع اور دوبارہ ساتھ رہنا شرعاً درست تھا؟ اور موجودہ صورتحال میں ہمارا نکاح برقرار ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ تین طلاق خواہ ایک ہی مجلس میں اکھٹی دی جایئں یا الگ الگ دی جائیں ، جمہور فقہاء رحمہم اللہ کے ہاں اس سے بیوی پر تین طلاقیں ہی واقع ہوتی ہیں ، چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر سائلہ کے شوہر نے اپریل 2022ءکو غصہ کی حالت میں اسے"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں الخ" کےالفاظ کےذریعہ واقعۃ تین طلاقیں دیدی ہوں، تو اس سے سائلہ پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی تھی، جس کے بعد ان کابغیر حلالہ شرعیہ اور تجدید نکاح کے ساتھ رہنا جائز نہ تھا ، جس کے وجہ سے دونوں گناہ گا ر ہوئے ہیں ، لہذا میاں بیوی پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والا تعلق ہر گز قائم نہ کریں ، وگرنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ حرمت کا علم نہ ہونے یا غلط مسئلہ بتلائے جانے کی وجہ سے اس ساتھ رہنے میں جو بیٹی ہوئی ہے ، اس کا نسب اسی شوہر سے ثابت ہوگا، اور عورت اس علیحدگی کے بعد سے عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی رد المحتار: تحت «(قوله والبدعي) منسوب إلى البدعة والمراد بها هنا المحرمة لتصريحهم بعصيانه بحر (قوله ثلاثة متفرقة)»وكذا بكلمة واحدة بالأولى، وعن الإمامية: لا يقع بلفظ الثلاث ولا في حالة الحيض لأنه بدعة محرمة وعن ابن عباس يقع به واحدة، وبه قال ابن إسحاق وطاوس وعكرمة لما في مسلم أن ابن عباس قال: «كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر: إن الناس قد استعجلوا في أمر كان لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليهم، فأمضاه عليهم» وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث اھ (باب الطلاق ج:3 ص:333 ناشر: الحلبی)
وفی الدر المختار: (وعدة المنكوحة نكاحا فاسدا) فلا عدة في باطل وكذا موقوف قبل الإجازة اختيار، لكن الصواب ثبوت العدة والنسب بحر اھ
وفی رد المحتار: تحت (قوله: وعدة المنكوحة إلخ) مبتدأ خبره قوله: الآتي الحيض، وهذه الجملة بتمامها مستغنى عنها بقوله سابقا كذا أم ولد مات عنها مولاها، أو أعتقها وموطوءة بشبهة أو نكاح فاسد في الموت والفرقة ط. على أن كلامه هنا يوهم وجوب العدة في النكاح الفاسد ولو قبل الوطء وليس كذلك، فإنها لا تجب فيه بالخلوة بل بالوطء في القبل كما مر في باب المهر (قوله: نكاحا فاسدا) هي المنكوحة بغير شهود، ونكاح امرأة الغير بلا علم بأنها متزوجة، ونكاح المحارم مع العلم بعدم الحل فاسد عنده خلافا لهما فتح. مطلب في النكاح الفاسد والباطل اھ (مطلب عدة المنكوحة فاسدا والموطوءة بشبهة ج:3 ص:516 ناشر: حلبی)
وفی الھندیة: رجل قال لامرأته أنت طالق أنت طالق أنت طالق «فقال عنيت بالأولى الطلاق وبالثانية والثالثة إفهامها صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان اھ(فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه ج:1 ص:555 ناشر: المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر )
وفی رد المحتار: (قوله: بشبهة) متعلق بقوله وطئت، وذلك كالموطوءة للزوج في العدة بعد الثلاث بنكاح، وكذا بدونه إذا قال ظننت أنها تحل لي، أو بعدما أبانها بألفاظ الكناية، وتمامه في الفتح، ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالما بحرمتها لا تجب عدة أخرى لأنه زنا، وفي البزازية: طلقها ثلاثا ووطئها في العدة مع العلم بالحرمة لا تستأنف العدة بثلاث حيض، ويرجمان إذا علما بالحرمة ووجد شرائط الإحصان، ولو كان منكرا طلاقها لا تنقضي العدة، ولو ادعى الشبهة تستقبل الخ (باب العدۃ ج:3 ص: 518 ناشر: الحلبی)