السلام علیکم !جناب عالی گزارش یہ ہے کہ میری شادی آج سے چھ سال پہلے ہوئی ہے میرے دو بیٹے ہیں ایک کی عمر پانچ(5) سال اور چھوٹے بیٹے کی عمر تین (3) سال ہے میرا شوہر پولیس میں کانسٹیل کا نوکری کرتا ہے اور ساتھ نشہ چرس اورآئس کرتا ہے ،نشے میں لڑتا جھگڑتا مار پیٹ کرتا ہے، آج سے دو مہینے پہلے گھر کے جھگڑے میں اس نے مجھے ایک بار طلاق اس طرح بولا مجھے کہا کہ جس طرح تجھے طلاق چاہئے میں دیتا ہوں لکھ کر دو یا بول کے، پھر کچھ دن بعد دوبارہ جھگڑا کیا گالی گلوچ کی پھر اسی طرح مجھے طلاق بولا اور کہا جا تو مجھ سے آزاد ہے میری طرف سے آزاد ہے طلاق یافتہ عورت یہاں میرے گھر میں بیٹھی ہے،روز روز کی جھگڑوں سے تنگ آکر میں اپنے ماں باپ کے گھر آگئی پھر یہاں میرے شوہر آکر میرے گھر والوں کے سامنے مجھ سے لڑ کر جاتے وقت باہر گلی میں کھڑے ہوکر سب کے سامنے مجھے تین سے زیادہ بار طلاق بول کر بچوں کو لیکر چلا گیا، اس کے الفاظ یہ تھے مجھ سے کہا ''تجھے طلاق چاہئے طلاق لے ماں باپ کے گھر بیٹھ جا میری طرف سے آزاد ہے طلاق ہے تین بار بولا اس طرح،( برائے مہربانی مجھے قرآن وحدیث کی روشنی میں واضح کر کے بتائے کہ میری طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟ میرا شوہر کے ساتھ رہنا جائز ہے کہ نہیں؟
گواہ نمبر 1: ان کے جھگڑے میں موجود تھا ان کے شوہر نے تین سے چار بار مذکور الفاظ بولے''کہ تو ماں کے گھر بیٹھ تجھے طلاق چاہئے میں طلاق دیتا ہوں، تجھے طلاق ہے ،تو میری طرف سے آزاد ہے۔
گواہ نمبر 2:میں ان کے محلہ میں رہتی ہوں اور جب ان کا جھگڑا ہوا تو میں باہر بیٹھی ہوئی تھی، میں نے یہ الفاظ سنا ہےکہ تو ماں کے گھر بیٹھ جا،تجھے طلاق چاہئے، میں طلاق دیتا ہوں،تجھے طلاق ہے،میری طرف سے آزاد ہے ،میں طلاق دیتا ہوں۔
تیسرے گواہ جوکہ مالک مکان ہے وہ دارالافتاء میں حاضر نہیں ہوئےالبتہ ان سے فون پر بات ہوئی تو ان کا کہنا ہے کہ میں گلی کے باہر تھا اور لڑکی کے کسی کزن سے شوہر کی بات ہو رہی تھی،تو اس نے اس موقعہ پر کہا کہ یہ خلع لینے کے لئے بیٹھی ہوئی ہے، اور میں اسے طلاق دیتا ہوں دو بار یہ الفاظ میں نے سنے پھر اس کے بعد وہ گھر چلے گئے تو تیسری مرتبہ میں نے نہیں سنا۔
(نوٹ:دوسرے اور تیسرے واقعہ کے مابین ایک مہینہ کا وقت بھی نہیں گزرا)
صورت مسولہ میں دوسری لڑائی جھگڑے کے موقع پر سائلہ کے شوہر نے اگرواقعۃ مذکور الفاظ ''تو مجھ سےآزاد ہے،میری طرف سے آزاد ہے،طلاق یافتہ عورت یہاں آکر میری گھر بیٹھی ہے '' کہے ہواور شوہر اس کا اقرار بھی کرتا ہوں،تو ان الفاظ کےذریعہ سائلہ پردو طلاق رجعی واقع ہوچکی تھیں،جس کے بعد شوہر کوفقط ایک طلا ق کا اختیار حاصل تھا،چنانچہ سائلہ کا میکہ آنے کے بعد اگر شوہر نے اسے دوبارہ صریح الفاظ ''تجھے طلاق دیتا ہوں''کے ذریعہ طلاق دیدی ہو تو اس سے سائلہ پر تیسری طلاق بھی واقع ہوکرمجموعی طور پر تینوں طلاقوں کے ساتھ حرمت مغلظہ ثابت ہوجائیگی،جبکہ بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوں گی،اور سائلہ کا شوہر کے پاس رجوع کا اختیار نہ ہوگا ،اورحلالہ شرعیہ کے بغیر دونوں کا عقد نکاح بھی نہ ہوسکے گا،جبکہ عدت گزرنے کے بعد سائلہ کسی اور جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی،تاہم اگر سائلہ کا خاونداسےطلاق دینے سے منکر ہو تو ایسی صورت میں فریقین گواہوں سمیت کسی قریبی دار الافتاء،عدالت یا پنچائیت جاکر مکمل صورت حال بیان کرکے اسی کے مطابق عمل کریں۔
کمافی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] اھ(کتاب الطلاق فصل في حكم الطلاق البائن،ج:3،ص:187،مط:ایچ ایم سعید)
وفی ردالمحتار:فإذا قال"رهاكردم"أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق الخ(باب،الکنایات،ج:3،ص:299،مط:ایچ ایم سعید)