کیا فرماتے ہیں مفتیان کرا م اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں اکثر گھروں میں بھیڑ بکری کو ذبح کرنے کے بعد کھال اتارے بغیر فقط ہاتھ سے صفائی کر کے اس کو اسی طرح پکایا جاتا ہے، اور اس سے کھایا جاتا ہے، کیا اس طرح کھال سمیت کھانا جائز ہے؟
بھیڑ، دنبہ، یا دیگر حلال جانور کی شرعی طریقہ سے ذبح کرنے کے بعد اگر اسے اچھی طرح صاف کیا جاتا ہو، یعنی اوجھڑی وغیرہ میں موجود گندگی نکال کر پھر کھال سمیت پکایا جاتا ہے، تو اس کے کھانے میں شرعاً حرج نہیں، حلال جانور کی کھال بھی حلال ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: وأما بيان ما يحرم أكله من أجزاء الحيوان المأكول فالذي يحرم أكله منه سبعة: الدم المسفوح، والذكر، والأنثيان، والقبل، والغدة، والمثانة، والمرارة لقوله عز شأنه {ويحل لهم الطيبات ويحرم عليهم الخبائث} [الأعراف: 157] وهذه الأشياء السبعة مما تستخبثه الطباع السليمة فكانت محرمة. الخ (5/61)۔
مشینی جھٹکے سے ذبح شدہ جانور اور مشکوک و نامعلوم کھانوں کا حکم
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0فیکٹری مالک کو بتائے بغیر ، اس کی فیکٹری سے پانی و بجلی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0بلی اگر آٹا جھوٹا کرلے تو اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے-کن کن جانوروں کا جھوٹا پاک ہے؟
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0